سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا مشینری پر زکاۃ ہوگی؟
  • 6597
  • تاریخ اشاعت : 2026-03-04
  • مشاہدات : 70

سوال

ایک بھائی کے پاس ایک عدد ایکسویٹر مشین ہے، جس سے وہ مزدوری کرکے کمائی کرتا ہے۔ سال گزرنے کے بعد وہ کس حساب سے زکوۃ دینے کا پابند ہوگا؟ پوری مشین سے یا کمائی سے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

كاريگروں كے آلات، مثلا بڑھئى، اور معمار اور لوہار وغيرہ كے آلات، اسی طرح فيكٹريوں اور كمپنيوں كى چھوٹى بڑى مشينرى اور اس کے سازو سامان يا ملازمين كى نقل و حرکت ميں استعمال ہونے والى گاڑيوں ميں زكاۃ نہيں ہے۔

سيدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَيْسَ عَلَى المُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي عَبْدِهِ وَلاَ فِي فَرَسِه (صحیح البخاري، الزكاة: 1464)

مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے۔

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان جس مال کو اپنے استعمال کے لیے مخصوص کر لے، اس میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی، لہذا وہ مشینری جو اس نے اپنے نفع کے لیے رکھی ہے، تجارت کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ اسے اپنے مال کی بڑھوتری کے لیے کام میں لانا چاہتا ہے اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔

البتہ اگر اس مشینری سے حاصل ہونے والے آمدنی نصاب کو پہنچتی ہو اور اس پر سال گزر جائے تو پھر اس آمدنی کی زکاۃ  ادا کرنا  لازمی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے