الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!
انسان پر واجب ہے کہ وہ نماز فجر کےلیے بیدار ہونے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے ، جیسے: رات دیر تک کام نہ کرے، جلدی سوئے، اگر نیند گہری ہونے کی وجہ سے نماز کے وقت پر خودبخود بیدار نہیں ہو سکتا تو الارم لگالے، گھر والوں کو کہے کہ وہ اسے نماز کے لیے اٹھا دیں۔
سيدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک شب نبی ﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہم سب لوگوں کے ہمراہ آخر شب آرام فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے ڈر ہے کہ مبادا تم نماز سے سوتے رہو۔‘‘ سيدنا بلال رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: میں سب کو جگا دوں گا، چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنی پشت اپنی اونٹنی سے لگا کر بیٹھ گئے، مگر جب ان کی آنکھوں میں نیند کا غلبہ ہوا تو وہ بھی سو گئے۔ نبی ﷺ ایسے وقت بیدار ہوئے کہ سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’اے بلال! تمہارا قول و قرار کہاں گیا؟‘‘ وہ بولے مجھے آج جیسی نیند کبھی نہیں آئی، اس پر آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے جب چاہا تمہاری ارواح کو قبض کر لیا اور جب چاہا انہیں واپس کر دیا۔ اے بلال! اٹھو اور لوگوں میں نماز کے لیے اذان دو۔‘‘اس کے بعد آپ نے وضو کیا، جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپکھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ (صحيح البخاري، مواقيت الصلاة: 595)
1. اگر انسان نے صبح کی نماز کے لیے بیدار ہونے کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا، کسی قسم کی سستی اور کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا پھر بھی وہ بیدار نہ ہو سکا تو وہ گناہگارنہیں ہے، جب بھی وہ بیدار ہو فوراً نماز ادا کرے ، اگرچہ وہ ایسے وقت میں بیدار میں ہو جس میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، یہی اس نماز کا وقت ہے، فوت شدہ نماز کو لیٹ کر کے اگلی نماز کے ساتھ پڑھنا یا اگلے دن اسی نماز کے ساتھ پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ نَسِيَ صَلَاةً، أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 684)
جو شخص کوئی نماز بھول گیا یا اسے ادا کرنے کے وقت سويا رہ گیا تو اس (نماز) کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آئے وہ اس نماز کو پڑھے۔
مندرجہ بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جب انسان سویا رہ جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے فوراً نماز ادا کرے۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتویٰ کمیٹی