الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!
درج ذیل دلائل کی بنا پر حیض والی عورت کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے۔
1. اصل حکم یہی ہے کہ ہر انسان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے۔ ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس میں ایسی عورت کو قرآن کی تلاوت سے منع کیا گیا ہو۔
2. اللہ سبحانہ و تعالی نے قرآن مجید کی تلاوت کا حکم دیا اور اس پر عظیم اجر و ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے، چنانچہ تلاوت قرآن سے اسی شخص کو منع کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں کوئی صحیح دلیل موجود ہو، اور ایسی کوئی دلیل نہیں ہے۔
3. حیض والی عورت کو جنبی شخص پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ جنبی شخص غسل کر سکتا ہے، لیکن حائضہ عورت ایسا نہیں کر سکتی، اور حیض کی مدت بھی لمبی ہوتی ہے۔
4. حائضہ عورت کو قرآن مجید کی تلاوت سے منع کرنے میں اس کے لیے اجر و ثواب سے محرومی ہے۔ عین ممکن ہے کہ تلاوت نہ کرنے کی وجہ سے اسےقرآن مجید کا کچھ حصہ بھول جائے، یا پھر اسے تعلیم و تعلّم کے دوران قرآن مجید پڑھنے کی ضرورت ہو۔
مندرجہ بالا سطور سے ظاہر ہوتا ہے کہ حیض والی عورت کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے، لیکن اگر عورت احتیاط کرتے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت صرف اس صورت میں کرے جب اسے قرآن مجید بھول جانے کا خدشہ ہو یا وہ معلمہ ، متعلمہ ہو تو زیادہ بہتر ہے۔
اگر حائضہ عورت قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا چاہے تو وہ اسے کسی الگ چیز کے ساتھ پکڑے، مثلاً کسی پاک صاف کپڑے یا دستانے کے ساتھ، یا قرآن کے اوراق کسی لکڑی اور قلم وغیرہ کے ساتھ الٹائے۔
احناف کے ہاں فتوی یہ ہے کہ ایام حیض میں خواتین کے لیے قرآنِ کریم کو بلاحائل چھونا اور اُس کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر بھولنے کا اندیشہ ہو اور پڑھنا ضروری ہو تو ایک ایک لفظ کرکے پڑھ لینا جائز ہے، ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی کپڑے وغیرہ سے قرآن مجید کو کھول کر اس میں دیکھتی رہے، اور دل دل میں ہی دہراتی رہے، زبان سے تلفظ نہ کرے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(قوله: وقراءة قرآن) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً كما قدمناه."(كتاب الطهارة ، باب الحيض ج : 1ص : 293 ط : سعيد)
والله أعلم بالصواب.
محدث فتویٰ کمیٹی