سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا غصے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
  • 6525
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-16
  • مشاہدات : 38

سوال

غصے کی کون سی صورت میں طلاق نہیں ہوتی؟ اگر انسان نے سالوں کے وقفے سے الگ الگ موقعوں پر تین بار طلاق دی ہوں تو شرعی حکم کیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، أما بعد!

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل  بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک عقل مند انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ذ را سی بات پر اتنا غصے میں آ جائے کہ منہ سےطلاق کا لفظ نکال کر خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کو ختم  کردے۔

اس لیے اگر خاوند اور بیوی کا آپس  میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ جب تمام کوششوں کے باوجود رشتہ نبھانا  ممکن نہ ہو تو اسلام نے خاوند کو طلاق کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔

☜  جب کوئی  شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے، وہ غصے میں ہی ہوتا ہے، خوشی میں کوئی بھی طلاق نہیں دیتا۔ اس لیے یہ کہنا کہ طلاق دیتے وقت میں غصے میں تھا اس لیے طلاق نہیں ہے بالکل غلط  اور شریعت کے خلا ف ہے۔

☜  خاص قسم کے غصے میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ جس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان  اس قدر غصے میں آجائے کہ اس  کے اعصاب قابو میں نہ رہیں، شدت غضب کی وجہ سے اس میں شعور اور احساس بھی نہ ہو، اسے کوئی پتہ نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے یا اپنی زبان سے کیا کہہ رہا ہے۔  اسے یہ شعور بھی نہ ہو کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر خود سے جدا کر رہا ہے ۔ ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن واضح رہے کہ غصے میں انسان کی یہ حالت نادر ہی ہوتی ہے، عام طور پر انسان غصے کی حالت میں حوش وہواس میں ہوتا ہے، اسے اپنے قول وفعل کا ادراک ہوتا ہے۔

 سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لا طَلاَقَ ولا عِتَاقَ في غَلاَق) .سنن أبي داود،طلاق: 2193) (صحيح).

اغلاق كى حالت ميں نہ تو غلام آزاد ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ہوتى ہے۔

اہل علم كى ايك جماعت نے " اغلاق " كا معنى اكراہ يعنى جبر يا غصہ كيا ہے؛ يعنى شديد غصہ، جسے شديد غصہ آيا ہو جس وجہ سے اس کے اعصاب بے قابو ہو جائیں تو یہ شخص پاگل اور نشہ كى حالت والے شخص كے مشابہ ہے، اس كى طلاق واقع نہيں ہوگى۔

اسلام نے دو طلاقیں رجعی قرار دی ہیں یعنی پہلی اور دوسری طلاق کے بعد انسان عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ  (البقرة: 229).

یہ طلاق (رجعی ) دو بار ہے، پھر یا تواچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

اور فرمایا:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ  (البقرة: 230)

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رفاعہ القرظی نے ایک عورت سے شادی کی اور اسے تیسری اور آخری طلاق بھی دے دی ، اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کر لی، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی کہ اس نے جس مرد سے شادی کی ہے وہ حقوق زوجیت ادا نہیں کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ عورت دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ (صحيح البخاري، الطلاق:  5317 ، صحيح مسلم، النكاح: 1433

نہیں (یعنی تو واپس رفاعہ کے پاس نہیں جا سکتی) حتی کہ تو اس کا مزہ چکھے اور وہ تیرا مزہ چکھے۔

مندرجہ بالا آیت اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت اپنے سابقہ خاوند کے لیے صرف اسی صورت حلال ہو سکتی جب وہ اپنی رغبت سے، گھر بسانے کی غرض سے کسی مرد سے شادی کرے اورمرد کی نیت بھی گھر بسانے کی ہی ہو، سابقہ خاوند کے لیے اس عورت کو حلال کرنا مقصد نہ ہو،  ان دونوں کے ازدواجی تعلقات قائم ہوں ، پھر دوسرا خاوند کسی سبب کی بنا پر اپنی بیوی کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو یہ عورت سابقہ خاوند کے لے حلال ہو جائے گی  اور وہ اس سے دوبارہ نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

مندرجہ بالا گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر انسان نے الگ الگ موقعوں پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو وہ اس سے جدا ہو جائے گی، وہ اب اس کی بیوی نہیں رہی، بلکہ اس کے تمام احکامات اجنبی عورت والے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے