سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
قومی بچت سکیم سے سود لینا
  • 6522
  • تاریخ اشاعت : 2026-01-16
  • مشاہدات : 52

سوال

میں نے ماضی میں لاعلمی کی بنا پر قومی بچت اور ایک اور جگہ سے سود کی رقم لی تھی۔ حاصل شدہ سود کی رقم خرچ ہو چکی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے میں نے سچی توبہ کر لی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس سودی رقم کو اب اپنی جیب سے واپس کرنا واجب ہے، یا صرف توبہ اور استغفار کرنا کافی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں سود لینے سے منع کیا گیا ہے بلکہ سود لینے کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَﱠ (البقرة: 278-279)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ:هُمْ سَوَاءٌ (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں  پر لعنت فرمائى ہے، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ۔

اللہ تعالی کا آپ پر خاص فضل وکرم ہے کہ اس نے آپ کو توبہ کرنے کی توفیق دی ہے۔ پختہ عزم كریں  كہ آئندہ ایسے عظيم گناہ اور جرم كا ارتكاب نہيں كریں گے۔

آپ نے  بنک سے جو انٹرسٹ (سود)  لیا تھا،  اسے استعمال کرنا اور کھانا جائز نہیں تھا۔ آپ پر لازم ہے کہ سود لینے اور استعمال کرنے کا جرم کرنے پر  رب کے حضور کثرت کے ساتھ توبہ واستغفار کریں۔ اپنی  اصل رقم بنک سے نکلوا لیں، جو سود بنک سے لیا تھا وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔

فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرۃ: 275)

پھر جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے کوئی نصیحت آئے پس وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا وہ اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو دوبارہ ایسا کرے تو وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے