سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بیوہ عورت سے ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا
  • 6520
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-16
  • مشاہدات : 45

سوال

میں نے ایک بیوہ عورت سے چھپ کر نکاح کیا ہے، کیونکہ اس کے پہلے خاوند سے دو بچے ہیں اور انکی پراپرٹی کا مسئلہ چل رہا ہے ۔ وہ عورت اس لیے چھپانا چاہتی ہے کہ اگر یہ بات کہیں عام ہو گئی تو اس سے بچوں کو پراپرٹی کا حق دلوانے کا قانونی حق چھین لیا جائے گا ۔ میں نے ایک مدرسے میں جا کر مولوی صاحب کو کہا کہ ہمارا فون کال پر نکاح پڑھا دو۔ اس نے اپنے دو شاگرد بلائے ، ہم نے اسے کال کی تو مولوی صاحب نے محترمہ سےپوچھا کہ کیا آپ مجھے اپنا ولی بنائیں گی کہ میں آپ کا نکاح پڑھاؤں؟ محترمہ نے رضا مندی ظاہر کی اور ہمارا ایجاب و قبول فون پر ہو گیا۔ کیا یہ نکاح صحیح ہوا ہے؟ اس موقع پر عورت کا والد یا بھائی موجود نہیں تھے ۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے نکاح میں کچھ ارکان اور شروط متعین کی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے ۔

نکاح کے تین ارکان ہیں :

1. خاوند اوربیوی کا ہونا کیوں کہ ان کے بغیر نکاح ممکن نہیں ہے، یہ بھی تاکید کرنا ضروری ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہو وہ ایک دوسرے کےمحرم نہ ہوں۔

2. حصول ایجاب: ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کو کہے کہ میں تیری شادی فلاں لڑکی سے کرتا ہوں یااس سے ملتے جلتے کوئی الفاظ کہے۔

3. حصول قبول: قبولیت کے الفاظ خاوند یا اس کا قائم مقام  ادا کرے گا، مثلا: وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کوئی الفاظ۔

 

نکاح کی شروط درج ذیل ہیں:

1. خاوند اور بیوی کا تعین کرنا، یہ تعین نام، اشارے یا اس کی کوئی  صفت بیان کرکے کیا جا سکتا ہے۔

2. خاوند اوربیوی کی رضامندی

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. (صحيح البخاري، النكاح: 5136، صحيح مسلم، النكاح: 1419).

شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کےبغیر نہیں کیا جا سکتا، کنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  کہنے لگے:  اے اللہ کے رسول ! ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

3. عورت کے لیے ولی کا ہونا بھی شرط ہے۔

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ)). (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

4. اسی طرح نکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی بھی شرط ہے۔ جیسا کہ  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَشَاهِدَيْ عَدْل. (صحیح الجامع: 7557).

ولی اور دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

نکاح کے وقت مذکورہ بالا تمام ارکان اور شروط کا  پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ان میں کوئی سے ایک رکن  یا شرط نہ پائی جائے تو  شرعی طور پر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

سوال میں مذکور صورت حال سے ظاہر ہور ہا ہے کہ نکاح کے وقت ولی موجود نہیں تھا ، اس لیے یہ نکاح صحیح نہیں ہے؛کیونکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کی اجازت اور رضا مندی بنیادی شرط ہے۔

آپ  دونوں خاوند اور بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔ ناجائز نکاح کی بنیاد پر  جو آپ نے تعلقات قائم کیے ہے وہ بھی ناجائز اور حرام تھے، اس کی اللہ کے حضور معافی اور سچی توبہ کریں۔

اس ناجائز نکاح کےبعد جب عورت کا ولی رضا مند ہو جائے، تو استبراء رحم کے بعد نیا نکاح کرنا ہو گا ؛ کیونکہ پہلا نکاح شرعی شرائط کے مطابق نہیں تھا۔ 

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے