سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
قسم کی اقسام اور اس کا حکم
  • 6517
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-27
  • مشاہدات : 8

سوال

قسم کی ہر قسم کی وضاحت اور اس کا حکم بیان کر دیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قسم کی تین قسمیں ہیں:

1. جھوٹی قسم: گزرے ہوئے کسی واقعہ یا کام کے بارے میں جھوٹی قسم کھانا، مثلا: انسان کہے کہ اللہ کی قسم میں نے ایسا کام نہیں کیا، حالانکہ اس نے کیا ہو، تو یہ گزرے ہوئے واقعہ کے بارے میں جھوٹی قسم ہے۔ اس جھوٹی قسم پر انسان گنہے گار ہے، اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ اس عظیم جرم پر اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرے، لیکن اس قسم کا کفارہ نہیں ہے۔اس کا کفارہ رب کے حضور توبہ واستغفار ہی ہے۔

2. لغو قسم: اس سے مراد یہ ہے کہ قسم انسان کا تکیہ کلام بن جائے، یعنی انسان کا قسم اٹھانے کا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن چونکہ قسم اس کا تکیہ کلام بن چکی ہے تو بغیر ارادے کے ہی وہ بات بات پر قسم اٹھاتا رہتا ہے، ایسی قسم پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔

3. مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نا کرنے کی قسم کھانا، اس قسم کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر قسم توڑ دیتا ہے تو کفارہ لازم آئے گا، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (المائدة: 89)

اللہ تم سے تمھاری قسموں میں لغو پر مؤاخذہ نہیں کرتا اور لیکن تم سے اس پر مؤاخذہ کرتا ہے جو تم نے پختہ ارادے سے قسمیں کھائیں۔ تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، درمیانے درجے کا، جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے، جب تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم شکر کرو۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے