الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں زکاۃ کے مستحق افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک مصرف وَالْغَارِمِينَ بھی ہے۔ اس سے مراد وہ مقروض ہیں جو قرض ادا نہیں کر سکتے، یا وہ کاروباری لوگ یا زمیندار وغیرہ جو کاروبار یا فصل برباد ہوجانے کی وجہ سے زیر بار ہو گئے، اگر وہ اپنی جائداد میں سے قرض ادا کریں تو فقیر ہو جائیں۔
اگر قرض خواہ قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے اور آپ کے شوہر کی ماہانہ آمدنی اتنی نہیں ہے کہ اس سے قرض ادا کیا جاسکے ، یعنی اگر وہ کئی مہینے بھی گھر کے اخراجات کے علاوہ کچھ پیسے الگ کر کے جمع کرتا رہے گا تو جمع نہیں ہوں گے، یا بمشکل جمع ہوپائیں گےتو آپ زکاۃ کے مال سے قرض کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔
والله أعلم بالصواب.