سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نماز کی نیت کرنا
  • 6504
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-18
  • مشاہدات : 68

سوال

نماز کی نیت بتائیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وضو، نماز، روزہ اور ديگر عبادات سے پہلے زبان سے نیت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ بدعت ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم زبان سے نیت نہیں کیا کرتے تھے۔ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت ميں سے كسى كو بھی زبان سے نيت كے الفاظ ادا كرنے كا حكم نہیں ديا، اور نہ كسى مسلمان كو اس كى تعليم دى ہے۔ اگر يہ  مستحب یا جائز ہوتا تو ضرور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس کا حکم دیتے، کیونکہ اس عمل کی ہر روز صبح و شام ضرورت تھى۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ (صحيح مسلم، الأقضية:1718).

جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے۔

1. زبان سے نيت كرنا انسان کی عقل اور دين میں نقص پر دلالت کرتا ہے۔ دين  میں نقص اس لحاظ سے ہے کہ بدعت ہے ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہیں ہے۔ عقل میں  نقص اس طرح ہے کہ یہ ایسے ہی ہے  کہ جیسے کوئی کھانا تناول کرنا چاہ رہا ہو اور کہے کہ  ميں برتن ميں ہاتھ ڈالنے اور اس سے لقمہ لينے كى نيت كرتا ہوں، وہ لقمہ اپنے منہ ميں ڈال كر چباؤں گا، پھر اسے نگل لوں گا، تا كہ میرا  پيٹ بھر جائے۔ اگر كوئى ايسا كرتا ہے تو وہ نرا احمق اور جاہل کہلائے گا۔

2. نیت دل کے ارادے کوکہتے ہیں، جب انسان كو اپنے فعل كا علم ہو جائے تو گویا اس نے نيت كرلى۔ زبان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ زبان سے نیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی انسان کے دل کے ارادے کو جانتا ہے۔

والله أعلم بالصواب

محدث فتوی کمیٹی

تبصرے