سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
گائے کا عقیقہ کرنا
  • 6503
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-16
  • مشاہدات : 45

سوال

کیا ایک گائے میں دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریم ﷺ سے عقیقہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ (سنن أبي داود، الضحايا: 2842 )صحيح)

جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس کی طرف سے صدقہ اور قربانی کرنا چاہتا ہو تو کرے، لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابراور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ 

حديث مبارکہ میں ’’شاة‘‘ کا لفظ آیا ہے، یہ لفظ عربی زبان میں بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، اس لیے عقیقہ میں  بھیڑ یا بکری دونوں ذبح کیے جا سکتے ہیں۔

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں:

نُفِسَ لعبدِ الرَّحمنِ بنِ أبِي بكرٍ غلامٌ ، فقيل لعائشةَ – رضِي اللهُ عنهَا - يا أمَّ المؤمنين عُقِّي عنه جَزورًا، فقالت : معاذَ اللهِ ، ولكن ما قال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ : شاتانِ مُكافَئتانِ (السلسلة الصحيحة: 2720)

عبد الرحمن بن ابو بکر کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ اے ام المؤمنین! اس بچے کی طرف سے اونٹ بطور عقیقہ ذبح کریں، تو انہوں نے کہا اللہ کی پناہ! ، (میں وہی ذبح کروں گی) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے : دو بکریاں برابر برابر۔

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں بھیڑ یا بکری ہی کیے جا سکتے ہیں، اونٹ یا گائے کا عقیقہ کرنا جائزنہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے