الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ کے سوال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو تین طلاقیں مختلف موقعوں پر دے چکے ہیں، اس لیے تم دونوں خاوند اوربیوی کے اکٹھے رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (البقرة: 230)
پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔
1. ماں کا یہ کہنا کہ ’’اگر تو طلاق نہیں دے گا تو میں خودکشی کر لوں گی‘‘ شریعت کے خلاف ہے۔ اگر اسے اپنی بہو سے کوئی مسئلہ تھا تو اسے سلجھانے کے دیگر کئی طریقے ہیں، اس بنا پر خودکشی کی دھمکیاں دینا ناجائز اور حرام ہے۔
والله أعلم بالصواب.