الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وہ چیز بیچنا منع ہے جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو۔
سیدنا حکیم بن حز ام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کوبیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں؟ آپ نے فرمایا:
لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ (سنن ترمذی، أبواب البيوع: 1232) (صحيح)
جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو۔
1. احادیث مبارکہ میں سامان كو قبضہ میں لینے سے پہلے بیچنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں خریدوفروخت کرتا رہتا ہوں اس میں میرے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ (مسند أحمد: 15316) (صحيح)
جب تم کوئی چیز خریدو تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو۔
2. مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی گاہک وہ چیز لینے آتا ہے جو آپ کی ملکیت میں نہیں ہے تو آپ اس سے قیمت بالکل طے نہ کریں، بلکہ پہلے اس چیز کو بازار سے خریدیں اپنے قبضہ میں کریں پھر اسے بیچیں؛ كيونكہ اگر آپ نے گاہک سے اس چیز کی قیمت خریدنے سےپہلے ہی طے کر لی ہے تو آپ نے وہ چیز بیچ دی ہے جو آپ کی ملکیت میں نہیں ہے جو کہ شرعا ناجائز ہے۔
والله أعلم بالصواب.