سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
گواہوں کی موجودگی میں بغیر ولی کے نکاح کرنا
  • 6486
  • تاریخ اشاعت : 2026-01-21
  • مشاہدات : 112

سوال

لڑکا حنفی ہے اور لڑکی اہل حدیث۔ دونوں نے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد جب گھر والوں کو پتہ چلا تو لڑکی والے کہتے ہمارے نزدیک ایسے نکاح نہیں ہوتا۔ پھر لڑکے والوں نے کہا اگر نہیں ہوتا تو ہم طلاق دیتے ہیں۔ لڑکے نے طلاق دے دی۔ الفاظ طلاق یہ تھے: ’’ میری طرف سے آزاد ہے‘‘۔ کیا ان لفظوں کے ساتھ طلاق ہو گئی؟ اگر ہوگئی ہے تو کون سی طلاق ہوئی ہے، رجعی یا بائن؟ لڑکے نے اس طلاق کے بعد لکھ کر بھی تین طلاقیں دے دیں۔ اگر پہلی طلاق بائن تھی تو کیا بعد میں لکھ کر جو تین طلاقیں دی ہیں۔ وہ لاگو ہوں گی یا نہیں؟ اب اگر دونوں خاندانوں والے نکاح کرنا چاہیں تو حلالہ کی ضرورت تو نہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے نکاح میں کچھ ارکان اور شروط متعین کی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے ۔

نکاح کے تین ارکان ہیں :

1. خاوند اوربیوی کا ہونا کیوں کہ ان کے بغیر نکاح ممکن نہیں ہے، یہ بھی تاکید کرنا ضروری ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہو وہ ایک دوسرے کےمحرم نہ ہوں۔

2. حصول ایجاب : ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کو کہے کہ میں تیری شادی فلاں لڑکی سے کرتا ہوں یا اس سے ملتے جلتے کوئی الفاظ کہے۔

3. حصول قبول : قبولیت کے الفاظ خاوند یا اس کا قائم مقام  ادا کرے گا، مثلا:  وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کوئی الفاظ۔

نکاح کی شروط درج ذیل ہیں:

1. خاوند اور بیوی کا تعین کرنا، یہ تعین نام، اشارے یا اس کی کوئی  صفت بیان کرکے کیا جا سکتا ہے۔

2. خاوند اوربیوی کی رضا مندی:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. (صحيح البخاري، النكاح: 5136، صحيح مسلم، النكاح: 1419).

شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کےبغیر نہیں کیا جا سکتا، کنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ! ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

3. عورت کے لیے ولی کا ہونا بھی شرط ہے۔

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

4. اسی طرح نکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی بھی شرط ہے۔ جیسا کہ  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَشَاهِدَيْ عَدْل. (صحیح الجامع: 7557).

ولی اور دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

1. نکاح کے وقت مذکورہ بالا تمام ارکان اور شروط کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ان میں کوئی سے ایک رکن  یا شرط نہ پائی جائے تو شرعی طور پر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

2. سوال میں مذکور صورت حال سے ظاہر ہور ہا ہے کہ  نکاح کے وقت ولی موجود نہیں تھا، اس لیے یہ نکاح ہی صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کی اجازت اور رضا مندی بنیادی شرط ہے۔  جب نکاح  ہی صحیح نہیں ہے تو وہ عورت اس کی بیو ی بھی نہیں ہے، اس لیے اس کو طلاق نہیں دی جا سکتی ؛کیونکہ طلاق اس عورت کو دی جا سکتی ہے جو انسان کی بیوی ہو۔ لهذا اس عورت کو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

سيدنا مسور بن مخرمہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  نبی ﷺ نے فرمایا:

لا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ، وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ(سنن ابن ماجه، الطلاق:2048) (صحيح)

نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور مالک بننے سے پہلے غلام کا آزاد کرنا (درست) نہیں۔

1. ان دونوں خاوند اور بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔ ناجائز نکاح کی بنیاد پر جو انہوں نے تعلقات قائم کیے ہے وہ بھی ناجائز اور حرام تھے، اس کی اللہ کے حضور معافی اور سچی توبہ کریں۔

2. جب اس ناجائز نکاح کے بعد ولی رضا مند ہو جائے، تو انہیں استبراء رحم کے بعد  نیا نکاح کرنا ہو گا ؛ کیونکہ پہلا نکاح شرعی شرائط کے مطابق نہیں تھا۔ 

مذکورہ صورت حال میں خاوند نے طلاق کے لیے جو جملہ بولا ہے کہ ’’ میری طرف سے آزاد ہو‘‘ لغو ہے، ایسے ہی بعد میں لکھ کر تین طلاقیں دینا بھی لغو ہے، کیونکہ یہ ایسی عورت کو طلاقیں دی گئی ہیں جو اس کی بیوی ہی نہیں ہے۔

حلالہ کروانا:

حلالہ کروانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، یہ غیر شرعی نکاح کے ذریعے عورت کو سابقہ خاوند کے لیے حلال کرنے کا حیلہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت کی ہے او رحلالہ کرنے والے کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے، جیسا کہ  سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ. (سنن الترمذي، النكاح: 1120، سنن النسائي، الطلاق: 3416) (صحيح).

رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے (دونوں)  پر لعنت کی ہے۔

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ. (سنن ابن ماجه،:  1936) (صحيح).

كیا میں کرائے کے سانڈ کے متعلق نہ بتاؤں (کہ وہ کون ہوتا ہے؟) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کہا: جی ہاں (بتائیے) اے اللہ کے رسول! فرمایا: وہ حلالہ کرنے والاہے، اللہ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

تبصرے