الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر مرد فوت ہو جائے تو اسے مرد غسل دیں گے، اور اگر فوت ہونے والی عورت ہو تو اسے عورتیں غسل دیں گی ، یعنی مرد کاعورت کو غسل دینا یا عورت کا مرد کو غسل دینا جائز نہیں ہے۔
افضل اور بہتر یہ ہے کہ میت کا قریبی ترین رشتے دار اسے غسل دے اگر وہ تجربہ کار ہو، غسل کے سنت طریقہ سے واقف ہو، نیک اور پارسا ہو جو میت پر پردہ ڈالے اور اس کے رازوں کو فاش نہ کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ او رآپ کے قریبی رشتے داروں نے غسل دیا تھا۔ (سنن ابن ماجه، الجنائز: 1467)
متعدد احادیث و آثار سے ثابت ہے کہ زوجین میں سے ایک کی وفات کے بعد دوسرا اسے غسل دے سکتا ہے۔
سيده عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ» ثُمَّ قَالَ: «مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ (سنن ابن ماجه، الجنائز: 1465) (صحیح)
رسول اللہ ﷺ بقیع سے آئے تو دیکھا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور میں کہہ رہی ہوں: ہائے میرا سر! نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ عائشہ! میں(کہتا ہوں): ہائے میرا سر!‘‘ پھر فرمایا: ’’تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری وفات مجھ سے پہلے ہوگئی؟ (اس صورت میں) میں خود تمہارے لیے ( کفن دفن کا) اہتمام کروں گا، تمہیں خود غسل دوں گا، خود کفن پہناؤں گا، خود تمہارا جنازہ پڑھوں گا اور خود دفن کروں گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں:
لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ (سنن ابي داود، الجنائز: 3141) (صحیح)
اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بيوياں ہی غسل دیتیں۔
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دیں۔ (السنن الکبری للبيهقي: 6740)
جو بچہ سات سال یا اس سے کم عمر میں فوت ہو جائے، وہ چاہے مذکر ہو یا مؤنث اسے کوئی بھی آدمی یا عورت غسل دے سکتی ہے، غسل دینے والا اس کا محرم رشتے دار ہو یا کوئی اور ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراهيم رضی اللہ عنہ کو عورتوں نے ہی غسل دیا تھا۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی