سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر خاوند اور بیوی کا طلاق کے معاملے پر اختلاف ہو جائے
  • 6472
  • تاریخ اشاعت : 2026-01-21
  • مشاہدات : 127

سوال

میرا نام محمد فواد ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں دو بار طلاق دی تھی، پھر فون کال پر رجوع بھی کر لیا تھا۔ اب وہ کہہ رہی ہے کہ تم نے مجھے کسی کے گھر جانے کے لیے بھی طلاق دی تھی، حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔ میں نے تو صرف سختی سے منع کیا تھا کہ بغیر اجازت اور اکیلے کہیں مت جانا، اور جس کے گھر بھی جانا ہو مجھ سے پوچھ کر جانا، لیکن وہ کہتی ہے کہ نہیں، تم نے طلاق کا لفظ بولا تھا۔ جبکہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے کسی کے گھر جانے کے لیے طلاق کا لفظ نہیں بولا، بلکہ صرف دھمکی دی تھی کہ مجھے ایسے الفاظ کہنے پر مجبور مت کرنا۔ میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہیں باہر جانے یا کسی کے گھر جانے کے لیے طلاق کے الفاظ بولوں ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو چاہیے کہ وہ شادی  کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے ، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ  تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔

شرعی طور پر دو طلاقیں رجعی ہیں، یعنی اگر خاوند نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے تو وہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، عدت گزر جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے، اگر دوبارہ وہ اپنی بیوی کو دوسری طلاق دے دیتا ہے تو اسی طرح وہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، عدت گزر جائے تو  نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

اگر اس نے تیسری طلاق بھی دے دی ہے تو اس کے پاس عدت کےدوران رجوع کرنے کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اب وہ عورت اپنی عدت گزارے گی اور ہمیشہ کے لیے اس سے الگ ہو جائے  گی۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ (البقرة: 229).

یہ طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

اور فرمایا:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔

1. آپ نے اپنی بیوی کو اکٹھی دو طلاقیں دیں، ایسا کرنا اسلام میں حرام اور گناہ ہے کیونکہ ایک وقت میں ایک سے زائد طلاقیں دینا جائز نہیں ہے۔ آپ کو اللہ تعالی سے اپنے اس جرم  کی خلوص کے ساتھ معافی مانگنی لازمی ہے۔

2. آپ کی دی گئی دو طلاقیں دو نہیں، بلکہ ایک شمار ہو گی، کیونکہ انسان ایک وقت میں جتنی بھی طلاقیں دے دے وہ ایک ہی شمار ہوتی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

1. اگر شوہر کا طلاق کے معاملے میں بیوی سے اختلاف ہو جائے، یعنی اگر شوہر طلاق سے انکار کرے اور بیوی کہے کہ شوہر نے طلاق دے دی ہے، تو شوہر کی بات کوترجیح دی جائے گی کیونکہ اصل یہی  ہے کہ نکاح باقی ہے۔ لیکن اگر عورت  گواہ پیش کر دے، وہ گواہی دیں کہ شوہر نے طلاق دے دی ہے تو پھر طلاق ہو جائے گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ (صحيح الجامع: 2897).

دعوی کرنے والا دلیل دے گا (اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو تو) جس کے خلاف دعوی کیا گیا ہے وہ قسم اٹھائے گا۔

 

1. اس لیے اگر آپ کی بیوی کے پاس گواہ یا کوئی دلیل ہے جس سے ثابت ہو سکے کہ آپ  نے واقعتا گھر سے باہر جانے پر اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو دوسری  طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر بیوی کے پاس گواہ یا کوئی دلیل نہیں ہے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ دوسری طلاق کے بعد بھی عورت انسان کی بیوی ہی رہتی ہے، وہ عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ (البقرة: 229)

یہ طلاق (رجعی ) دو بار ہے، پھر یا تواچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

تبصرے