الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (کچھ دنوں کے بعد) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ کی میرے گھر رخصتی فرمائیے۔ آپ نے فرمایا:
أَعْطِهَا شَيْئًا قُلْتُ مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ قُلْتُ هِيَ عِنْدِي قَالَ فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ (سنن نسائي، النكاح: 3375)
اسے کچھ دو“ میں نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تیری حطمی زرہ کدھر گئی؟“ میں نے کہا: وہ تو میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا: ”وہی اسے دے دو۔
1. اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حق مہر میں زرہ دی تھی۔ محدثین نے ذکر کیا ہے کہ اس زرہ کی قیمت چار سو درہم تھی ۔ بعض نے کہا ہے کہ چار سو اسی درہم اس کی قیمت تھی۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی