الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق میت کے ورثاء بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیاں زندہ ہیں۔ میت کی کل جائیداد کی تقسیم شرعی اصولوں کے مطابق درج ذیل طریقہ سے کی جائے گی:
|
نمبر شمار |
میت کا ورثاء |
جائیداد کی تقسیم |
گھر کے آٹھ حصے کر لیے جائیں |
فیصد |
|
1 |
بیوی |
کل مال کا آٹھواں حصہ |
1حصہ |
%12.5 |
|
2 |
تین بیٹے |
یہ سارے باقی مال کے وارث ہوں گے |
باقی 7 حصوں کے مالک بیٹے اور بیٹیاں ہیں |
%65.6 ہر بیٹے کو %21.86 |
|
3 |
دو بیٹیاں |
%21.9 ہر بیٹی کو %10.95 |
بیوی کے آٹھویں حصے کی دلیل:
ارشادباری تعالی ہے:
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ (النساء: 12)
پھر اگر تمھاری کوئی اولاد ہو تو ان کے لیے اس میں سے آٹھواں حصہ ہے جو تم نے چھوڑا۔
بیٹے اور بیٹیوں کے حصے کی دلیل:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 11)
اللہ تعالی تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے، مرد کے لیے دوعورتوں کے حصے کے برابر حصہ ہے۔
1. بڑے بیٹے نے ورثاء کی رضامندی سے گھر میں ایک منزل تعمیر کی ہے، اس کو اخراجات کی ادائیگی کی جائے گی اور یہ ادائیگی تمام وارث اپنے اپنے حصے کے مطابق کریں گے۔ یعنی کل اخراجات کا %12.5 میت کی بیوی ادا کرے گی، ہر بیٹا %21.86 ادا کرے گا، دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک %10.95 ادا کرے گی۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی
1- فضیلۃ الشیخ انس مدنی صاحب حفظہ اللہ