سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
پوتے کی وراثت
  • 6423
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-27
  • مشاہدات : 65

سوال

میرا نام محمد سراج ہے۔ میرا سوال وراثت کے بارے میں ہے۔ ہمارے والد صاحب کی وراثت میں مرحوم بیٹے کا حصہ ہوتا ہے یا نہیں؟ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے والد صاحب کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے۔ ہماری بھابھی کا کہنا ہے کہ پوتے کو حصہ دیا جائے، حالانکہ جب والد صاحب زندہ تھے تو ہمارے بڑے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد والد صاحب کا انتقال ہوا۔ کیا ہمارے مرحوم بھائی کے بیٹے (یعنی والد صاحب کے پوتے) کو وراثت میں حصہ دیا جائے گا یا نہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی حکم کے مطابق اگر مرنے والے کا اپنا سگا بیٹا موجود ہو تو پوتا وارث نہیں ہوتا۔

سیدنا ابن عباس رضی  الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).

تم جن ورثا کا حصہ متعین ہے انہیں ان کا حصہ پورا پورا ادا کر دو، پھر جو مال بچ جائے اسے میت کے قریبی ترین رشتےدار کو دے دو۔

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

وَلايَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ. (صحيح البخاري: بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ (8/151).

بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہو گا۔

1. واضح رہے کہ کسی میت کی وراثت کا وارث بننے کے لیے  زندہ ہونا شرط ہے۔ آپ کے بڑے بھائی کا انتقال والد کی زندگی میں ہو گیا تھا، لہذا والد کی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ مذکورہ بالا سوال میں میت  کی حقیقی اولاد جوکہ پوتے کے چچا لگتے ہیں، وارث ہونگے، پوتا وارث نہیں ہو گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے