الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
شرعی حکم کے مطابق اگر مرنے والے کا اپنا سگا بیٹا موجود ہو تو پوتا وارث نہیں ہوتا۔
سیدنا ابن عباس رضی الله عنهما بيان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).
تم جن ورثا کا حصہ متعین ہے انہیں ان کا حصہ پورا پورا ادا کر دو، پھر جو مال بچ جائے اسے میت کے قریبی ترین رشتےدار کو دے دو۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وَلايَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ. (صحيح البخاري: بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ (8/151).
بیٹے کی موجودگی میں پوتا وارث نہیں ہو گا۔
1. واضح رہے کہ کسی میت کی وراثت کا وارث بننے کے لیے زندہ ہونا شرط ہے۔ آپ کے بڑے بھائی کا انتقال والد کی زندگی میں ہو گیا تھا، لہذا والد کی وراثت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ مذکورہ بالا سوال میں میت کی حقیقی اولاد جوکہ پوتے کے چچا لگتے ہیں، وارث ہونگے، پوتا وارث نہیں ہو گا۔
والله أعلم بالصواب.