سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا مور حلال ہے؟
  • 6414
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-27
  • مشاہدات : 166

سوال

كيا مور کھانا جائز ہے؟ احناف کے نزدیک مور کا کیا حکم ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مور كا گوشت كھانا جائز ہے؛ كيونكہ اصول یہ ہے کہ کھانے کی ہر چیز حلال ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً (البقرة:29)

وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا ہے۔

احادیث مبارکہ میں جن جانوروں کو کھانے سے منع کیا  گیا ہے، ان میں سے مور نہیں ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

نَهَى رَسُولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- عن أكلِ كُل ذي نَاب مِنَ السَّباعِ، وعن كُلِّ ذي مِخْلَبٍ من الطير. (سنن أبي داود، الأطعمة: 3803، سنن ابن ماجه، الصيد: 3234) (صحيح).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے جانور اور ہر چنگال والے پرندے (جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے) کو کھانے سے منع کیا ہے۔

1. احناف کے ہاں بھی مور کھانا جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولابأس بأكل الطاووس وعن الشعبي يكره  أشد الكراهة، وبالأول يفتي كذا في الفتاوي الحمادية

(کتاب الذبائح، الباب الثاني في  بيان مايؤ كل من الحيوان ومالا يؤ كل، ج :5، ص:290، ط:رشيدية)

مور کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، شعبی کے ہاں بہت زیادہ مکروہ ہے، لیکن حنفی مذہب میں فتوی پہلے پر ہے (یعنی اس کو کھانا جائز ہے) اسی طرح فتاوی حمادیہ میں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

 

تبصرے