الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
چاشت (اشراق) کی نماز پڑھنا اور اس پر ہمیشگی کرنا بہت ہی فضیلت والا عمل ہے۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى (صحیح مسلم، صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: 720)
صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے۔ ایک دفعہ سُبْحَا نَ اللهِ کہنا صدقہ ہے۔ ایک دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنا بھی صدقہ ہے، ایک دفعہ لَااِلٰهَ اِلَّا الله کہنا بھی صدقہ ہے، اَللهُ اَكْبَر کہنا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں۔
اس کا وقت سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد سے لے کرظہر کے وقت سے تقریبا دس منٹ پہلے تک ہے۔ اس کا افضل ترین وقت تب ہے جب گرمی خوب ہو جائے (یہ وقت زوال سے کچھ دیر پہلے ہوتا ہے)۔
1. چاشت کی نماز کی کم ازکم رکعتیں دو ہیں، زیادہ کی کوئی تحدید نہیں ہے۔
معاذہ رحمہا اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا :
كَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى؟ قَالَتْ: «أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ (صحيح مسلم، صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا: 719)
رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا چار رکعتیں اور جس قدر زیادہ پڑھنا چاہتے پڑھ لیتے۔
والله أعلم بالصواب.