سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
شادی سے پہلے ہونے والی بیوی کو طلاق دے دینا
  • 6403
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-15
  • مشاہدات : 56

سوال

زید ایک حنفی ہے۔ چند ماہ پہلے اس نے غصے کی حالت میں کہا کہ وہ جس لڑکی سے شادی کرے، اس کو تین طلاق۔ اب زید اس بات پر شرمندہ ہے۔ اس کی پندرہ دن بعد شادی ہے۔ گھر والوں نے کسی مفتی صاحب سے فتوی لیا تو انھوں نے حیلہ بیان کیا کہ نکاح فضولی کر لو۔ نکاح فضولی میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر وہ درست نہ ہوا تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ یہ مسئلہ تو فقہ حنفی کے نزدیک ہے، دیگر فقہی مذاہب میں نہیں ہے۔ کیا زید کے لیے فقہ شافعی اور فقہ حنبلی پر عمل کی گنجائش ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام دو چیزوں کا نام ہے :

1. قرآن مجید

2. سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

 انہی دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامنا اسلام ہے ۔

قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالی نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا اگر کسی کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے مخالف ہو گی تو اسے ٹھکرا دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کے آگے کسی کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینےوالے ہیں، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تواسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھا ہے۔

او ر فرمایا:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الحشر: 7)

اور رسول تمھیں جو کچھ دےتو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔

اور فرمايا:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا (الأحزاب: 36).

اور کبھی بھی نہ کسی مومن مردکا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہواور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے سو یقینا وہ گمراہ ہو گیا، واضح گمراہ ہونا۔

اور فرمايا:

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (الأعراف: 3).

اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔

اور فرمايا:

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور: 63).

سو لازم ہے کہ وہ لوگ ڈریں جو اس کا حکم ماننے سے پیچھے رہتے ہیں کہ انھیں کوئی فتنہ آ پہنچے، یا انہیں دردناک عذاب آ پہنچے۔

1. اللہ تعالی کی اطاعت کرنے سے مرادیہ ہے کہ قرآن مجید کی اطاعت کی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اطاعت ہے۔

2. سنت کی اطاعت بھی درحقیقت اللہ تعالی کی ہی اطاعت ہے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی قرآن مجید کی طرح وحی ہے، تو جیسے قرآن کی اطاعت کرنا ضروری ہے ویسے ہی سنت رسول کی اطاعت کرنا بھی ضروری ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا (النساء:80)

جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بے شک اس نے اللہ تعالی کی فرماں برداری کی اور جس نے منہ موڑا تو ہم نےتجھے ان پر کوئی نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔

اور فرمایا:

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم: 3-4)

اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔

 سیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي (صحيح البخاري، الأحكام: 7137)

جس نے میری اطاعت کی اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا اللہ کی نافرمانی کی۔ جس نے میرے امیر کی بات مانی اس نے میری بات مانی اور جس نے میرے امیر کی خلاف ورزی کی اس نے گویا میری خلاف ورزی کی۔

1. ہم تمام آئمہ کرام کا احترام کرتے ہیں، چاہے وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہوں یا امام مالک رحمہ اللہ،  امام شافعی رحمہ اللہ ہوں یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ یا ان کے علاوہ کوئی بھی عالم دین جو سلف صالحین کے منہج کو اختیار کرنے والا ہو ہمارے ہاں قابل قدر ہے، لیکن ہم کسی ایک کی اندھی تقلید کو جائز نہیں سمجھتے ہیں بلکہ  کسی بھی امام کی بات اگر حدیث کے موافق ہے تو ہم اس کو  بخوشی تسلیم کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں لیکن اگر کسی امام کا قول واضح اور صحیح حدیث کے خلاف ہو تو ہم اسے تسلیم نہیں کرتے بلکہ حدیث پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں کیونکہ ہمیں قرآن و حدیث کی پیروی کرنے کاحکم دیا گیا ہے اور اسی کی پیروی میں ہی  دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔

2. آپ کو یہ سوال کرنا چاہیے تھا کہ سوال میں مذکور صورت حال  کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

3. قرآن وسنت کی نصوص سے سمجھ آتا ہے کہ انسان اس عورت کو طلاق دے سکتا ہے جو اس کے نکاح میں ہو، اجنبی عورت کو دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (الأحزاب: 49)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  جب تم مؤمن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں طلاق دے دو، اس سے پہلے کہ انھیں ہاتھ لگاؤ تو تمھارے لیے ان پر کوئی عدت نہیں، جسے تم شمار کرو، سو انھیں سامان دو اور انھیں چھوڑ دو، اچھے طریقے سے چھوڑنا۔

مند رجہ بالا آیت مبارکہ میں الله تعالیٰ نےطلاق سے پہلے نکاح كا ذكر كيا  ہے، اس لیے طلاق دینے کے لیے عورت کا نکاح میں ہونا ضروری ہے۔

سيدنا مسور بن مخرمہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  نبی ﷺ نے فرمایا:

لا طَلَاقَ قَبْلَ نِكَاحٍ، وَلَا عِتْقَ قَبْلَ مِلْكٍ(سنن ابن ماجه، الطلاق:2048) (صحيح)

نکاح سے پہلے طلاق نہیں اور مالک بننے سے پہلے غلام کا آزاد کرنا (درست) نہیں۔

1. مندرجہ بالا آیت مبارکہ اور حدیث رسول سے واضح ہوتا ہے کہ نکاح کرنے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہو سکتی، اس لیےزید شادی کرے، اس کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہو گی۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے