سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد دائیں اور بائیں جانب بیٹھے شخص سے مصافحہ کرنا
  • 6397
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-02
  • مشاہدات : 39

سوال

فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد دائیں اور بائیں جانب بیٹھے شخص سے مصافحہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

 الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے ملتے، یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم آپس میں ایک دوسرے سے ملتے تو مصافحہ کرتے تھے۔

حضرت قتادہ بيان كرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ  سے پوچھا:

أَكَانَتِ المُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ (صحيح البخاري، الاستئذان: 6263)

کیا نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں مصافحہ (کرنے کا دستور) تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا تَلاقَوا تَصافَحوا، وإذا قَدِموا مِن سَفَرٍ تَعانَقوا (صحيح الترغيب: 2719)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب ایک دوسرے سے ملتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے۔

سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا (سنن أبي داود، السلام: 5212) (صحيح)

جو کوئی دو مسلمان ملاقات کرتے اور پھر مصافحہ کرتے ہیں، تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت فرما دی جاتی ہے۔

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إنَّ المُؤمِنَ إذا لقيَ المُؤمِنَ فسَلَّمَ عليه، وأخَذَ بيَدِه، فصافَحَه؛ تَناثَرَت خَطاياهما كما يَتَناثَرُ ورَقُ الشَّجَرِ (السلسلة الصحيحة: 526)

بلاشبہ جب کوئی مومن دوسرے مومن سے ملاقات کے وقت سلام کرتا ہےاور اس سے مصافحہ کرتا ہے، اس کے گناہ ایسے جڑھ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔

1. مسجد میں یا صف میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب ہے؛ کیونکہ یہ ایک عظیم سنت ہے اور اس پر عمل کرنا باہم الفت و محبت کے حصول اور بغض و عداوت کے خاتمہ کا سبب ہے۔اگر انسان نے کسی شخص سے  فرض نماز سے پہلے  مصافحہ نہیں کیا ، تو مسنون اذکار سے فارغ ہونے کے بعد مصافحہ کرنا درست ہے۔

2. بعض لوگ باقاعدگی سے ہر نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اپنے دائیں اور بائیں بیٹھے شخص کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ یہ خلاف سنت  اور بدعت ہے۔ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے