سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
دعا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا
  • 6393
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-02
  • مشاہدات : 33

سوال

کیا میت کو دفن کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے قبلہ رخ ہونا ضروری ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے اس موقع پر خلوص نیت کے ساتھ میت کی ثابت قدمی کی دعا کرنی چاہیے۔

  سیدنا عثمان بن عفان  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب میت کو دفن کر کے فارغ ہو جاتے تو قبر پر رکتے اور فرماتے:

اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَسَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ (سنن أبي داود، الجنائز: 3221)

اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور ثابت قدمی کی دعا کرو بیشک اب اس سے سوال کیا جائے گا۔

1. قبر پر کھڑے ہو کر میت کے لیے  ہاتھ  اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  بقیع قبرستان گئے، تو آپ نے فوت شدگان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کی (صحیح مسلم، الجنائز: 974)

2. افضل اور بہتر یہ ہے کہ انسان دعا کرتے ہوئے قبلہ کی طرف منہ کرے ، لیکن اگر کسی اور جہت کی طرف منہ کر کے دعا کر لے تو جائز ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معرکہ  بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے، اور آپ کے ساتھ تین سو انیس آدمی تھے، تو نبی ﷺ قبلہ رخ ہوئے، پھر اپنے ہاتھ پھیلائے اور بلند آواز سے اپنے رب کو پکارنے لگے: ’’اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا اسے میرے لیے پورا فرما۔ اے اللہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو زمین میں تیری بندگی نہیں ہو گی۔‘‘ آپ قبلہ رو ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھیلائے مسلسل اپنے رب کو پکارتے رہے حتی کہ آپﷺ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گئی۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ آپﷺ کے پاس آئے، چادر اٹھائی اور اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا، پھر پیچھے سے آپﷺ کے ساتھ چمٹ گئے اور کہنے لگے: اللہ کے نبی! اپنے رب سے آپﷺ کا مانگنا اور پکارنا کافی ہو گیا۔ وہ جلد ہی آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’جب تم لوگ اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک دوسرے کے پیچھے اترنے والے ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔‘‘ پھر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی۔ (صحیح مسلم، الجهاد والسیر: 1763)

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے