سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
عصر کی نماز کے بعد نفل پڑھنا
  • 6392
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-13
  • مشاہدات : 208

سوال

کیا عصر کی نماز کے بعد نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سيدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

)صحيح مسلم، فضائل القرآن: 827)

نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دیگر احادیث مبارکہ کے بارے میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممنوعہ اوقات میں مطلقا نوافل پڑھنا جن کا کوئی سبب نہ ہو منع ہیں، جیسے کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہوتو اس کے لیےان اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے، لیکن ایسی نماز جس کا کوئی سبب ہو، جیسے تحیۃ المسجد، وضو کی دو رکعتیں، سورج گرہن کی نماز وغیرہ، ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا جائز ہے۔

 حضرت ابوقتادہ بن ربعی انصاری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ (صحيح البخاري، التهجد: 1167)

تم میں سے کوئی جب مسجد میں آئے تو دو رکعتیں پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔

یہ حدیث مبارکہ عام ہے، کہ جب بھی انسان مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے۔ 

 

سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ  سے فرمایا:

يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ (صحیح البخاری، التهجد: 1149)

اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔

یہ حدیث مبارکہ بھی عام ہے، کہ جب بھی بلال رضی اللہ عنہ وضو کرتے، نماز پڑھتے تھے۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج اور چاند گرہن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ (صحیح البخاري، الكسوف:  1046)

یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں بایں حالت دیکھو تو اللہ سے التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف آ جاؤ۔

سورج او رچاند ممنوعہ اوقات کے وقت میں بھی گرہن ہو سکتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب بھی تم سورج یا چاند گرہن دیکھو فوری نماز پڑھو۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے