سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بیوی کو طلاق کا اختیار دینا
  • 6391
  • تاریخ اشاعت : 2026-02-02
  • مشاہدات : 83

سوال

کیا خاوند طلاق کا حق بیوی کو دے سکتا ہے؟ اگر دے سکتا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ اگر خاوند بیوی کو یہ اختیار دے دے توکیا وہ خود کو طلاق دے سکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند اپنی بیوی کو طلاق کا اختیار دے سکتا ہے، یعنی وہ اپنی بیوی کو یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تم خود کو طلاق دینا چاہو تو دے سکتی ہو۔

اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے،  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا (صحیح البخاری، الطلاق: 5262)

رسول اللہ ﷺ نےہمیں اختیار دیا تو ہم نے اللہ اور اس کے رسول کا انتخاب کیا اس اختیار دینے کو کچھ بھی شمار نہ کیا گیا۔

1. شوہر کے اختیار دینے کے بعد بیوی خود کو اسی مجلس میں یا بعد میں کسی بھی وقت طلاق دے سکتی ہے۔

2. اس صورت میں بیوی صرف ایک طلاق کی مالک ہو گی، الا یہ کہ خاوند اسے ایک کے بعد دوسری اور تیسری طلاق دینے کا اختیار بھی دے دے۔

3. اکٹھی تین طلاقیں دینا بدعت اور حرام ہے، اس لیے شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیوی کو اس کا اختیار دے۔
اگر بیوی نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة (صحيح مسلم، الطلاق: 1472)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

 بیوی کے پاس طلاق کا اختیار درج ذیل کام کرنے سے ختم ہو جاتا ہے:

1. شوہر کا بیوی سے ہمبستری کرنا

2. بیوی کا اس اختیار کو  ٹھکرا  دینا

3. شوہر کا  اختیار سے رجوع کر لینا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے