الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (رمضان میں) ایک مرتبہ نصف شب کے وقت مسجد میں تشریف لے گئے تو وہاں نماز تراویح پڑھی۔ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا، چنانچہ دوسری رات لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے اور آپ کے ہمراہ نماز (تراویح)پڑھی دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا۔ پھرتیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔ نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کی اقتدا میں نماز (تراویح ) اداکی۔ جب چوتھی رات آئی تو اتنے لوگ جمع ہوئے کہ مسجد نمازیوں سے عاجز آگئی یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لیے آپ باہر تشریف لائے۔ جب نماز فجر پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، خطبہ پڑھا پھر فرمایا: ’’واقعہ یہ ہے کہ تمھارا موجود ہونا مجھ پر مخفی نہ تھالیکن مجھے اندیشہ ہوا کہ مبادا نماز شب فرض ہو جائے، پھر تم اسے ادانہ کر سکو۔‘‘ رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے اور یہ معاملہ اسی طرح رہا۔ (صحيح البخاري، صلاة التراوايح: 2012)
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو پہلی رات تراویح کی جماعت آدھی رات کے وقت کروائی تھی۔
نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر طلوع فجر تک رہتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے جس کو لوگ عَتَمَة کہتے ہیں فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے۔ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور وتر ایک رکعت پڑھتے۔ جب مؤذن صبح کی نماز کی اذان کہہ کر خاموش ہو جاتا آپﷺ کے سامنے صبح واضح ہو جاتی۔ اور مؤذن آپﷺ کے پاس آ جاتا تو آپﷺ اٹھ کر دو ہلکی رکعتیں پڑھتے پھر اپنے داہنے پہلو کے بل لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن آپ ﷺ کے پاس اقامت (کی اطلاع دینے) کے لئے آجاتا۔ (صحيح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 736)
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ نماز تراویح کا وقت عشاء کی نماز کے بعد شروع ہو جاتا ہے، عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر نماز فجر تک کسی بھی وقت تراویح پڑھی جا سکتیں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر میں ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتویٰ کمیٹی