سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
فجر کی سنتوں کی قضائی
  • 6367
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-27
  • مشاہدات : 50

سوال

اگر انسان فجر سے پہلے کی دو سنتیں نہ پڑھ سکیں تو ان کی قضائی کب دی جائے گی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کسی شخص کی فجر کی دو سنتیں فوت ہو جائیں، تو انہیں سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھنا افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے فوری بعد پڑھنا چاہے تو جائز ہے۔ بعض لوگ زیادہ تاخیر ہونے کی وجہ سے بھول جاتے ہیں، اس لیے ایسے افراد کو چاہیے کہ فجر کی نماز کے فوری بعد  ہی پڑھ لیں۔

سیدناابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ (سنن ترمذي، أبواب الصلاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 423) (صحيح)  

جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے

سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (سنن ابی داود، التطوع:  1267) (صحیح)

صبح کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے پہلی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں، جو اب پڑھی ہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے