سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بلی کا آپریشن کروانا
  • 6364
  • تاریخ اشاعت : 2025-12-30
  • مشاہدات : 82

سوال

میرے پاس ایک پالتو بلی ہے، کیا یہ جائز ہے کہ آپریشن کے ذریعے اسکی نسل بڑھانے کی صلاحیت ختم کروا دی جائے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر انسان بلی کے کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے تو اسے پالنا جائز ہے۔ اگر اس  کے پاس  کھلانے پلانے کی استطاعت نہ ہو تو پھر اسے اپنے گھر میں بند رکھنا جائز نہیں ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لاَ هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلاَ هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْض (صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء: 3482)

ایک عورت کو اس بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس کو اس نے باندھ رکھا تھا حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ وہ اس وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی۔ نہ تو وہ اسے کھلاتی تھی اور نہ پلاتی تھی جبکہ اس نے اسے باندھ رکھا تھا اور نہ اسے چھوڑتی تھی تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے۔

اگر ڈاکٹر کے مشورے سے، جانور کی بچہ دانی نکلوانے میں کوئی مصلحت اور معقول وجہ ہو تو نکلوائی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی مصلحت نہیں، صرف اس کو اذیت دینا مقصود ہو یا  ذاتی خواہش کی تسکین مقصد ہے، یا اس کی نسل کو آگے بڑھنے سے روکنا مقصود ہو، تو پھر ناجائز اور حرام ہے۔ اس لیے بے مقصد پالتو بلی کی بچہ دانی نکلوانا جائز نہیں ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے