الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جن لفظوں کے ساتھ بیوی کو طلاق دی جاسکتی ہے وہ دو طرح کے ہیں:
1. صریح لفظ: جو طلاق کے معنی میں بالکل واضح ہو جس کا طلاق کے علاوہ کوئی اور مطلب نہیں ہو سکتا۔
2. کنایہ: اس سے مراد ایسا لفظ ہے جو طلاق دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کو ادا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
انسان بیوی کو طلاق دینے کے لیے بعض اوقات بالکل واضح لفظ استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو طلاق کا معنی بھی دیتا ہے اور اس لفظ کا مطلب طلاق کے علاوہ کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔
1. آپ نے اپنے سسر کو تین نوٹ دیے اور کہا کہ یہ تین چیزیں ہو گئی، یہ کنایہ ہے۔ لیکن آپ نے خود وضاحت کر دی ہے کہ اس کا مطلب تین طلاقیں تھا، تو آپ کی بیوی کو طلاق ہو گئی ہے۔
2. واضح رہے! قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے۔ ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے، لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی۔
3. آپ نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دی ہیں، تو یہ ایک ہی طلاق شمار ہو گی اور آپ کو عدت کے دوران بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔
عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا، شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحاوي على الدر المختار: 2/105).
یاد رہے! وہ عورت جسے باقاعدگی سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت کی تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (البقرة: 228)
اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔
وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ (الطلاق: 4).
اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے نا امید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔
اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الطلاق: 4).
اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔
رجوع کا طریقہ کار:
خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا کسی اور کے سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔
اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔
1. آپ کے بھائی نے آپ کے سسر کو طلاق دینے کے لیے جو شرط لگائی ہے کہ ہم حق مہر نہیں دیں گے،وہ شرط اگر نہ بھی لگائی جاتی تو خلع کی صورت میں عورت کی طرف کوئی چیز بطور فدیہ دینا لازمی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (البقرۃ: 229)
پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں دے دے۔
یعنی عورت خاوند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے اور خاوند طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو عورت جان چھڑانے کے لیے اپنا مہر یا خاوند اور بیوی کے درمیان جو بھی آپس میں یا حاکم کی عدالت میں طے پا جائے، وہ چیز بطور فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پھر خواہ خاوند خود ہی فدیہ لے کر اسے چھوڑ دے، یا اگر وہ اس پر تیار نہ ہو تو حاکم اسے فدیہ لے کر چھوڑنے کا حکم دے، اگر وہ نہ مانے تو عدالت نکاح فسخ کر دے۔ چونکہ یہ درحقیقت طلاق نہیں بلکہ عورت کی طرف سے علیحدگی کا مطالبہ ہے، اس لیے اسے خلع کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الكُفْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا (صحیح البخاری، الطلاق: 5276)
اللہ کے رسول! میں ثابت بن قیس ؓ عنہ کی دینداری اور اس کے اچھے خلق کا انکار نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں رہتے ہوئے ناسپاسی اور ناشکری سے ڈرتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ اسے واپس کردے گی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ اس نے ان کا باغ واپس کر دیا۔ اور انہوں نے آپ ﷺ کے حکم سے اسے جدا کر دیا۔
والله أعلم بالصواب.