سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
مقتدی کا سورہ فاتحہ پڑھنا لازمی ہے
  • 6320
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-14
  • مشاہدات : 95

سوال

کیا جماعت میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہری اور سری تمام نمازوں میں سورہ فاتحہ کی قراءت کرنا ضروری ہے اور یہ نماز کا رکن ہے۔

سیدنا عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ (صحیح بخاری، الأذان: 756، صحیح مسلم، الصلاة:  394)

جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز ہی نہیں ہوئی۔

1. سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع فرمائی مگر وہ آپ ﷺ پر بھاری ہو گئی۔ (یعنی آپ اس میں رواں نہ رہ سکے) جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو کہا: ”شاید کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا:

لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا  (سنن أبي داود، أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 823)

نہ پڑھا کرو مگر فاتحہ، کیونکہ جو اسے (فاتحہ کو) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔

والله أعلم بالصواب.

تبصرے