الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ اس بچی کو لے کر پرورش کر سکتے ہیں، بلکہ ضرور کرنی چاہیے، کیونکہ اگر آپ اس کی اسلامی تعلیمات کے مطابق پرورش کرتے ہیں تو یہ بہت عظیم عمل ہے، جو آپ دونوں کے لیے صدقہ جاریہ بن جائے گا، کیونکہ اگر وہ بچی اپنے عیسائی والدین کے پاس رہے گی، تو والدین کی طرح عیسائی بن جائے گی۔ آپ کی پرورش سے ان شاء اللہ مسلمان ہو جائے گی۔ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کے خاندان کو بھی اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا:
وَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ (صحیح البخاری، الجهاد والسير: 2942)
اللہ کی قسم ! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
واضح رہے کہ وہ بچی آپ کی حقیقی بیٹی نہیں ہے، اس لیے اس کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی طرف ہی کی جائے گی۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُهُ، إِلَّا كَفَرَ. وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (صحیح البخاري، المناقب: 3508، صحیح مسلم، الإيمان: 61)
جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
وہ آپ کی محرم بھی نہیں ہے، اس لیے جب وہ بالغ ہو گی، اس سے پردے کے احکامات بھی ہوں گے۔ بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی بہن یا بھائی کی بیوی سے گزارش کریں کہ وہ اس بچی کو پانچ مرتبہ دودھ پلا دے تاکہ آپ اس کے محرم بن جائیں۔
والله أعلم بالصواب.