سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
سود لینے والا اور دینے والا دونوں مجرم ہیں
  • 6305
  • تاریخ اشاعت : 2025-09-26
  • مشاہدات : 382

سوال

کیاسود لینے والے اور دینے والے دونوں کے بارے میں وعید آئی ہے؟ براہ کرم قرآن وسنت سے دلیل بیان کر دیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سود لینا اور دینا دونوں کبیرہ گناہ ہیں۔ بہت سی قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں سود سے منع کیا گیا ہے بلکہ سود  کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔   

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے: 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَﱠ. (البقرة: 278-279).

اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

سودی معاملے میں کسی بھی طرح کا تعاون کرنا جرم اور کبیرہ گناہ ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے سخت وعید آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور سود کا گواہ بننے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ. (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں  پر لعنت فرمائى ہے، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں۔

سيدناابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ (سنن ابن ماجه، التجارات: 2274)(صحيح)

سود کے ستر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ اس قدر (بڑا) ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے نکاح کرے۔

 سيدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 

رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَةٍ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدَّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاءَ لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَمَا كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُ الرِّبَا (صحیح البخاری، البیوع: 2085)

میں نے آج رات خواب میں دو مرد دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس کی طرف لے گئے ہم چلتے رہے حتیٰ کہ خون کی نہر پر آئے جس میں ایک آدمی کھڑا تھا اور نہر کے درمیان میں ایک آدمی تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے جب دوسرا آدمی نہر سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے وہیں واپس کردیتا جہاں وہ تھا میں نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے؟تو ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ جس شخص کوآپ نے خونی نہر میں دیکھا ہے وہ سود خور ہے۔ 

انسان پر واجب ہے کہ وہ کوئی بھی کاروبار کرنے سے پہلے اسلام کے کاروبار کے بارے میں بتائے ہوئے اصول وضوابط کو اچھی طرح سمجھے تاکہ حلال روزی کما سکے اور حرام ذریعہ آمدن سے خود کو بچا سکے۔ 

والله أعلم بالصواب.

تبصرے