سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
سسر کے ساتھ عمرہ یا حج کرنا
  • 6302
  • تاریخ اشاعت : 2025-09-26
  • مشاہدات : 93

سوال

کیا سسر اپنی بہو کو اپنے بیٹے کو ساتھ لیے بغیر حج/عمرہ کروا سکتے ہیں جب بیٹا زندہ ہو

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے عورت کے تحفظ  کے لیے بہت سے احکامات دیے ہیں، ان میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، چاہے وہ سفر حج یا عمرہ وغیرہ کے لیے ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس کی عزت محفوظ رہے اور وہ فتنوں سے بچ سکے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: 

لاَ تُسَافِرِ المَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلاَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَم (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1862) 

کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجو نہ ہو۔

 یہ سن کر ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! میں فلاں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم اس کے ساتھ حج کے لیے جاؤ۔‘‘

ارشاد باری تعالی ہے:

وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ (النساء: 23)

(حرام کی گئی ہیں تم پر)  تمھارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔

 

حج پر جانے کے لیے عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے، سسر بھی اس کا محرم ہے وہ اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے، اگرچہ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ جائے کیونکہ سفر میں بعض معاملات ایسے پیش آ سکتے ہیں جن میں اس کا خاوند سسر کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے اس  کی مدد کرسکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے