سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
مسافر آدمی کا وقت سے پہلے نماز پڑھنا
  • 6300
  • تاریخ اشاعت : 2025-10-20
  • مشاہدات : 132

سوال

مسافر صبح کی نماز اذان سے دس پندرہ منٹ پہلے پڑھ سکتا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

الله تعالی نے تمام نمازوں کو مقررہ وقت پر فرض کیا ہے، کسی نماز کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ سفر میں ظہر کو عصر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے، یعنی ظہر کو عصر کے وقت میں یا عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھنا جائز ہے۔ ایسے ہی مغرب کو عشاء کے وقت میں یا عشاء کو مغرب کے وقت میں جمع کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔فجر کی نماز مسافر آدمی بھی مقررہ وقت پر ہی پڑھے گا، اس  کو کسی دوسری نماز کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے جب تک یہ علم نہ ہو جائے کہ نماز فجر کا وقت داخل ہو چکا ہے، نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص وقت سے پہلے نماز پڑھ لیتا ہے، تو اس پر واجب ہے کہ  وقت کے داخل ہونے کے بعد دوبارہ ادا کرے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)

بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہےجس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ (صحيح مسلم، الأقضية:1718).

جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے وہ مردود (باطل) ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے