الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو تو اس کی یہ رکعت شمار ہو گی یا نہیں، علماء کی اس بارے میں دو مختلف رائے ہیں:
جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ اگر مقتدی امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے تو اس کی رکعت شمار ہو گی، یہ ائمہ اربعہ ، ابن عمر، ابن مسعود، زید بن ثابت اور دیگر کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور علماء کرام کی رائے ہے۔
دلیل:
1. سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب اس وقت پہنچے جب آپ رکوع میں تھے۔ صف میں شمولیت سے پہلے ہی انہوں نے رکوع کر لیا۔ پھر جب نبی ﷺ سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ نے فرمایا:
زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ (صحيح بخارى، الأذان: 783)
اللہ تعالیٰ تمہارے شوق کو مزید ترقی دے آئندہ ایسا مت کرنا۔
مندرجہ بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ رکوع میں شامل ہوئے اور ان کی یہ رکعت شمار کی گئی، کیونکہ آپ ﷺ نے اسے وہ رکعت دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ آپ ﷺ نے دوبارہ ایسے کرنے سے منع کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع نہ کرنا۔
2. سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تو (مسجد) آئے اور امام رکوع کی حالت میں ہو ، اگر تو نے امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے اپنے دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ لیے تو تو نے اس رکعت کو پالیا۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ: 2520)
بعض علماء کے ہاں وہ رکعت شمار نہیں کی جائے گی جس میں مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھے، یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، امام بخاری، ابن حزم، شوکانی اور علامہ معلمی رحمہم اللہ کا قول ہے۔
دلیل:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إِذَا سَمِعْتُمُ الإِقَامَةَ، فَامْشُوا إِلَى الصَّلاَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالوَقَارِ، وَلاَ تُسْرِعُوا، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا (صحيح بخارى، الأذان: 636)
جب تم اقامت سنو تو نماز کے لیے سکون و وقار کے ساتھ چلو، تیزی اختیار نہ کرو، پھر جس قدر نماز مل جائے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔
جو شخص امام کے ساتھ رکوع کی حالت میں شامل ہوتا ہے، اس نے امام کے ساتھ قیام اور سورہ فاتحہ کی قراءت نہیں کی اور یہ دونوں نما ز کے رکن ہیں، جن کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، مندرحہ بالا حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جو نماز رہ جائے اس کی قضائی دے، اس شخص سے قیام اور سورہ فاتحہ رہ گئی ہے لہذا یہ اس رکعت کی قضائی دے گا۔
1. احتیاط کا پہلو یہی ہے کہ مذکورہ صورت میں رکعت کو شمار نہ کیا جائے اور انسان نماز کے بعد کھڑا ہو کر ایک رکعت پڑھ کر نماز مکمل کر ے۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی