الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی وترپڑھا کرتے تھے۔ ہمیں بھی دوران سفر وتر پڑھنے چاہئیں۔
حضرت سعید بن یسار فرماتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ جب مجھے صبح ہونے کا خدشہ لاحق ہوا تو سواری سے اتر کر میں نے وتر ادا کیے، پھر ان سے جا ملا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہاں گئے تھے؟ میں نے عرض کیا: مجھے صبح کا خدشہ لاحق ہوا تو اتر کر وتر ادا کرنے لگا تھا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں اچھا نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! کیوں نہیں! تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اونٹ پر سوار ہو کر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری، الوتر: 999)
وتر کی نماز جیسے اپنے گھر میں ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعات تک پڑھی جا سکتی ہے، ایسے ہی سفر میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں، یعنی سفر اور حضر کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.