الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بدعتی اگر اپنی بدعت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو اور اس سے قطع تعلقی کرنے میں کوئی دینی مصلحت ہو، تو اسے سلام نہ کیا جائے۔ جیسے اگر کوئی بااثر اور صاحبِ حیثیت شخص اس بدعتی سے تعلق توڑ لے تو وہ اس بات کو سنجیدگی سے لے گا اور اس پر اثر پڑے گا، تو ایسی صورت میں اس سے قطع تعلق کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔جیسےنبی ﷺ اور مسلمانوں نے کعب بن مالک اور ان کے دونوں ساتھیوں کا بائیکاٹ کیا تھا، جب وہ بغیر کسی عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ نبی ﷺ اور مسلمانوں نے ان سے قطع تعلق رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: لَا تُجَالِسْ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَإِنَّهُ يُمْرِضُ قَلْبَكَ (الاعتصام، جلد 1، ص113)
اہل بدعت کی مجلسوں میں نہ بیٹھا کرو ، وہ تمہارے دل کو بیمار کر دیں گے۔
یحی بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: إِذَا لَقِيتَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فِي طَرِيقٍ; فَخُذْ فِي طَرِيقٍ آخَرَ(الاعتصام، جلد 1، ص113)
اگر تمہیں راستے میں کوئی بدعتی شخص ملے تو راستہ تبدیل کر لو۔
1. اگر اس سے قطع تعلقی کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو تو اسے سلام کیا جائے، کیونکہ بعض اوقات بدعتی شخص دل میں دشمنی رکھ لیتا ہے اور لوگوں کو حق پرستوں کے خلاف بھڑکاتا ہے، ایسی صورت میں قطع تعلقی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
2. اسی طرح اگر کسی شخص کے بارے میں یہ امید ہو کہ وہ حق قبول کر لے گا، اور بدعت چھوڑ دے گا، تو اسے سلام کیا جائے اور احسن انداز میں حق کی دعوت دی جائے۔ عین ممکن ہے وہ جاہل ہو ، اس لیے اسے اچھے انداز سے نصیحت کی جائے۔
والله أعلم بالصواب.