الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر خاوند مسلمان ہوجائے اور اس کی بیوی یہودی یا عیسائی ہو تو ان کا نکاح باقی رہے گا اگرچہ بیوی مسلمان نہ بھی ہو، کیونکہ اہل کتاب کی عورتوں سےنکاح کرنا جائز ہے۔
ارشادباری تعالی ہے:
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (المائدة:5)
آج تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور ان لوگوں کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے جنھیں کتاب دی گئی اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور مومن عورتوں میں سے پاک دامن عورتیں اور ان لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم انھیں ان کے مہر دے دو، اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو، بدکاری کرنے والے نہیں اور نہ چھپی آشنائیں بنانے والے اور جو ایمان سے انکار کرے تو یقینا اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں سے ہے۔
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر عورت اہل کتاب سے ہو اور اس کا شوہر دخول سے پہلے یا بعد میں اسلام قبول کر لے، یا دونوں میاں بیوی ایک ساتھ اسلام لے آئیں، تو نکاح اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے، چاہے اس کا شوہر اہل کتاب سے ہو یا نہ ہو؛ کیونکہ مسلمان کے لیے اہل کتاب کی عورت سے نکاح کرنا جائز ہے، تو موجود نکاح کو برقرار رکھنا بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔ جو علماء اہل کتاب کی عورت سے نکاح کے جواز کے قائل ہیں ان کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (دیکھیں : المغنی، جلد نمبر 7، ص169)
اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور ا س کی بیوی اہل کتاب سے نہ ہو اور ابھی تک دخول بھی نہیں ہوا تو ان کے درمیان فورا جدائی کروا دی جائے گی۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِلَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَآَتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آَتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ (الممتحنة: 10)
اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف واپس نہ کرو، نہ یہ عورتیں ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہوں گے۔ اور انھیں دے دو جو انھوں نے خرچ کیا ہے اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان سے نکاح کر لو، جب انھیں ان کے مہر دے دو۔ اور کافر عورتوں کی عصمتیں روک کر نہ رکھو۔
اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور ا س کی بیوی اہل کتاب سے نہ ہو اور دخول ہو چکا ہوا، تووہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ہیں الا یہ کہ بیوی اسلام قبول کر لے۔ اگر بیوی نے اسلام قبول نہیں کیا اور عدت گزر گئی تو وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کر سکتی ہے، لیکن اگر وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرتی اور عدت گزر جانے کے بعد کسی وقت اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنے خاوند کی طرف سابقہ نکاح کے ساتھ ہی لوٹ سکتی ہے؛ کیونکہ ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔ وہ زینب رضی اللہ عنہا کے اسلام قبول کرنے کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے؛ کیونکہ زینب رضی اللہ عنہا نے بعثت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا، جبکہ ابو العاص رضی اللہ عنہ نے صلحِ حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ ان دونوں کے اسلام کے درمیان تقریباً اٹھارہ سال کا فرق تھا، لیکن نبی ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے پہلے نکاح پر ہی ابو العاص رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹا دیا، نیا نکاح نہیں کیا۔
اگر کسی کافر نے حالت کفر میں کسی ایسی عورت سے نکاح کیا ہو جس سے نکاح کرنا اسلام میں حرام ہے تو اس کے مسلمان ہونے کے بعد ان نکاح باطل قرار پائے گا او ران کے درمیان تفریق کروا دی جائےگی۔
والله أعلم بالصواب.