سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کاروبار کے لیے قرضہ لینا
  • 6275
  • تاریخ اشاعت : 2025-10-20
  • مشاہدات : 237

سوال

کیا کاروبار کے لیے قرضہ لینا جائز ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نیا کاروبار شروع  کرنے کے لیے یا کاروبار کو بڑھانے کے لیے قرضہ لیا جا سکتا ہے، لیکن قرض لے کر سود دینا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ بہت سے لوگ بینک سے سود پر قرضہ لے کر کاروبار شروع کرتے ہیں  جو حرام اور بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے کاروبار میں کبھی برکت نہیں ہو سکتی، جس کی ابتدا ہی سود ی معاملے سے کی گئی ہو۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ. (البقرة: 278-279).

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔

اور فرمايا:

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (البقرة: 276)

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں رکھتا جو سخت ناشکرا، سخت گناہ گار ہو۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں:

لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ. (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائى ہے، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے