الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کو چاہیے کہ وہ شادی کرنے سے پہلے نکاح و طلاق کے مسائل سے بخوبی آگاہی حاصل کرے، تا کہ اسے نکاح و طلاق کی شروط ، آداب، خاوند اور بیوی کے حقوق و فرائض، طلاق دینے کا شرعی طریقہ اور اس سے متعلقہ تمام احکامات کا علم ہو سکے اور وہ اپنی ازدواجی زندگی شرعی احکامات کے مطابق گزار سکے۔
اسلام نے دو طلاقیں رجعی قرار دی ہیں یعنی پہلی اور دوسری طلاق کے بعد انسان عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ. (البقرة: 229).
یہ طلاق (رجعی ) دو بار ہے، پھر یا تواچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔
اگر آپ نے فون کال کے ذریعے دو الگ الگ موقعوں پر طلاقیں دی ہیں، یعنی ایک طلاق دی اس کی عدت ختم ہو گئی، پھر دوسری طلاق دی، تو اس صورت میں آپ کی بیو ی کو دو طلاقیں ہو چکی ہیں۔ آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں، اور اگر عدت ختم ہو چکی ہے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتے ہے، اس میں ولی، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
1. اگر آپ نےتیسری مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو رجوع کا اختیار ختم ہو جائے گا، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).
پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کرلیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔
اگر آپ نے ایک ہی موقع پر کال کر کے اکٹھی دو طلاقیں دی ہیں، تو ایسا کرنا حرام ہے، آپ کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔لیکن اگر کوئی انسان ایک موقع پر ایک سے زائد طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی؛ كيونكہ ایک موقع پر ایک سے زائد جتنی بھی طلاقیں دی جائیں وہ ایک ہی شمار ہوں گی، لہذا آپ کی ایک طلاق واقع ہو چکی ہے۔ آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں، اور اگر عدت ختم ہو چکی ہے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتے ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔
والله أعلم بالصواب.