الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر رجعی طلاق ہو، یعنی پہلی یا دوسری طلاق ہو، تو بیوی کے کھانے پینے اور رہائش وغیرہ کے اخراجات خاوند پرلازمی ہیں۔ امام شافعی، امام نووی، اما م ابن قدامہ رحمہم اللہ جمیعا اور دیگر کئی فقہاء نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ (الطلاق: 1)
مذكوره بالا آيت مبارکہ میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ طلاق یافتہ عورت کا اسی گھر میں رہنا ضروری ہے جس گھر میں وہ خاوند کے ساتھ طلاق سے پہلے رہ رہی تھی۔
ویسے بھی جس عورت کو رجعی طلاق ہوئی ہو وہ انسان کی بیوی ہی رہتی ہے، جب تک اس کی عدت ختم نہ ہو جائے، جب وہ اس کی بیوی ہے تو اس کا نان نفقہ اور رہائش وغیرہ کے اخراجات خاوند کے ہی ذمہ ہیں۔
1. اگر عورت کو طلاق بائن ہوئی ہو، یعنی تیسری طلاق ہوئی ہو یا عورت نے خلع لیا ہو، یا انسان نے نکاح کرنے کے بعد ہمبستری سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو یا نکاح فسخ ہو گیا ہو، تو ان تمام صورتوں میں عورت کو نان و نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی۔
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں، وہ فرماتی ہیں کہ میں رہائش اور خرچے کے لیے اس کے ساتھ اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی، تو آپﷺ نے مجھے رہائش اور خرچے (کا حق) نہ دیا، اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر گزاروں۔ (صحیح مسلم، الطلاق: 1480)
1. اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت ختم ہونے تک اس کا نان ونفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہے، چاہے اس کو رجعی طلاق ہوئی یا بائن۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنّ (الطلاق: 6)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا:
لَا نَفَقَةَ لَكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا (سنن أبي داود، الطلاق: 2290))صحيح)
تیرے لیے کوئی خرچہ نہیں الا یہ کہ تو حاملہ ہو۔
والله أعلم بالصواب.