الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں زکاۃ کے مستحق افراد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: 60)
صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
• مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں زکاۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے لام تملیک کا ذکر کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کو زکاۃ کے مال کا مالک بنانا ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی حاجت اور ضرورت کے مطابق اسے خرچ کر سکیں، یعنی زکاۃ کا مال ان افراد کے حوالے کر دیا جائے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق جیسے چاہیں خرچ کریں، کیونکہ وہ اپنی ضرورتوں کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔
• ان مصارف میں ایک مصرف فِي سَبِيلِ اللَّهِ ہے۔ مفسریں نے اس لفظ کے دو معنی بیان کیے ہیں، ایک تو ہرنیکی ہی اللہ کے لیے اور اللہ کے راستے میں ہے اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خرچ بھی فی سبیل اللہ ہے، جن کا ذکر مذکورہ بالا آیت کے شروع میں ہو چکا ہے۔ دوسرا ان سب سے الگ فی سبیل اللہ ہے۔ اس سے مراد تمام مفسرین کے اتفاق کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مجاہد غنی بھی ہو تو اس پر جہادی ضروریات کی خاطر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
فِي سَبِيلِ اللَّهِ کے مصرف میں تلوار کے ساتھ جہاد کرنا بالاتفاق آتا ہے۔ اس میں وہ دینی ادارے بھی آ جاتے ہیں، جو علم کے ساتھ دین کی سربلندی کے لیے سرگرداں ہیں۔ کیونکہ اعلائے کلمۃ اللہ جیسے جہاد کے ساتھ ہوتا ہے ایسے ہی علم کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
فَلَا تُطِعْ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: 52)
تو کافروں کی اطاعت نہ کر اور ان کے ساتھ جہاد کر، بڑا جہا کرنا۔
مذکورہ بالا آیت مبارکہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، اس وقت جہاد بالسیف کا حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا۔ اس میں علم اور دعوت دین کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
يَاأَيُّهَا النبي جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (التحريم:9)
اے نبی! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں منافقین کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ظاہری بات ہے منافقین کے ساتھ جہاد علم کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے، اسلحہ وغیرہ سے تو ممکن نہیں ہے۔ اس لیے علم کی نشر واشاعت کرنا بھی جہاد ہے۔
لہذا ان دینی اداروں میں زکاۃ کے مال سے سولر لگوایا جا سکتا ہے جہاں طلبہ قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہوں ۔
والله أعلم بالصواب.