الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اپنے نام کے ساتھ منہ بولے باپ کا نام لکھنا جائز نہیں ہے، حقیقی باپ کا نام ہی لکھا جائے گا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ (الأحزاب: 5)
انہیں ان کے باپوں ہی کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپ نہ جانو تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے دوست ہیں۔
اپنی نسبت حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف کرنا کبیرہ گناہ ہے، ایسا کرنے والے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید فرمائی ہے۔
سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُهُ، إِلَّا كَفَرَ. وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. (صحیح البخاري، المناقب: 3508، صحیح مسلم، الإيمان: 61)
جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
1. واضح رہے کہ منہ بولے باپ کا حکم اجنبی شخص کی طرح ہی ہے، یعنی آپ اس کے وارث نہیں بن سکتے اور نہ وہ آپ کا وراث بن سکتا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد پردے وغیرہ کے احکام بھی لاگو ہوں گے۔
2. آپ پر واجب ہے کہ اپنی تمام دستاویزات کو تبدیل کروائیں اور حقیقی باپ کا نام لکھوائیں۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی
فضیلۃ الشیخ ابومحمد عبدالستار حماد صاحب حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ شفیق مدنی صاحب حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی صاحب حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الخالق صاحب حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ اسحاق زاہد صاحب حفظہ اللہ