الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع الیدین كرنا بہت سی احادیث سے ثابت ہے، بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر"جزء رفع الیدین" کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے۔ انہوں نے اس میں ان دونوں جگہوں پر رفع الیدین کرنے کو ثابت کیا ہے، اور اس موقف کی مخالفت کرنے والوں کی سختی سے تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنی اسی کتاب میں رفع الیدین کے بارے میں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام (نماز میں رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد) رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فَلَمْ يَسْتَثْنِ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ أَحَدٍ، وَلَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْه
حسن بصری نے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا، اور نہ ہی کسی صحابی سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے رفع الیدین نہیں کیا ہو۔ دیکھیں: جزء رفع اليدين از امام بخاری، صفحہ نمبر 7)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کرنے سے پہلے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے:
سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا:
إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ (سنن ترمذي، أَبْوَابُ الصَّلاَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ : 255)
جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کوذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، ا نس، ابو ہریرہ، ابو حمید، ابو اسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابو قتادۃ، ابو موسیٰ اشعری، جابر اورعمیر لیثی رضی اللہ عنہم نے بھی رفع الیدین کرنے کی احادیث بیان کی ہیں۔
رفع الیدین نہ کرنے کی احادیث عبد اللہ بن مسعود اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے بیان ہوئی ہیں، لیکن ان احادیث کو محدثین اور حفاظ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث کو سفیان بن عیینہ ، شافعی، امام بخاری کے استاد حمیدی، احمد بن حنبل، یحیی بن معین، دارمی، اور امام بخاری سمیت دیگر ائمہ کرام رحمہم اللہ جمیعا نے ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو عبد اللہ بن مبارک، احمد بن حنبل، بخاری، بیہقی، اور دارقطنی سمیت متعدد علمائے کرام رحمہم اللہ جمیعا نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اسی طرح کچھ صحابہ کرام سے ترک رفع الیدین سے متعلق مروی آثار بھی ضعیف ہیں، جیسے کہ پہلے امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ قول گزر چکا ہے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی صحابی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے رفع الیدین نہیں کیا۔ دیکھیں: "تلخیص الحبیر از حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (1/538-547)
شارح سنن ترمذی امام محمد عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی شرح کرتے ہوئے اس کا ضعیف ہونا بیان کیا ہے اور سير حاصل بحث کی ہے۔
رفع الیدین منسوخ نہیں ہوا:
رفع الیدین کی احادیث تمام عشرہ مبشرہ صحابہ کرام کے علاوہ 37 کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہیں۔
ان تمام صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری عمر میں رفع الیدین ترک کر دیا تھا۔
رفع اليدين كي صحيح ترين روايت سيدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا ، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ (صحيح البخاري، الأذان: 735)
رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ جب رکوع کے لیے اللہ أکبر کہتے، جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد (دونوں) کہتے لیکن سجدوں میں یہ عمل نہ کرتے تھے۔
اس حدیث میں كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ الفاظ آئے ہیں ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اپنی تمام زندگی تمام نمازوں میں رفع الیدین کرتے رہے ہیں کیونکہ كَانَ يَرْفَعُ ماضی استمراری کا صیغہ ہے۔ ماضی استمراری کسی کام کے گزشتہ زمانے میں ہمیشہ جاری رہنے پر دلالت کرتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ عمل ہمیشہ رہا ہے۔
رفع الیدین کے بارے میں سیدنا مالک بن حویرث سے بھی حدیث مروی ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین کرتے دیکھا۔ مالک بن حویرث 9 ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر تک رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع الیدین کرتے دیکھا اور وائل رضی اللہ عنہ بھی 9 ہجری میں مسلمان ہوئے ہیں۔
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول گزر چکا ہے کہ تمام صحابہ کرام رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
اس موضوع پر تفصیل سے جاننے کے لیے درج ذیل کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین عند الرکو ع و بعدہ فی الصلوة
از زبیر علی زئی رحمہ اللہ
کیا رفع الیدین منسوخ ہے؟
از حافظ محمد ادریس کیلانی
مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ
از ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
میں رفع الیدین کیوں کروں؟
از ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
والله أعلم بالصواب.