الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہمارے علم میں ایسی کوئی خاص حدیث نہیں ہے جس میں نماز میں قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیانی فاصلے کو متعین کیا گیا ہو۔ نماز میں قیام کے دوران دونوں پاؤں کے درمیان معتدل فاصلہ ہونا چاہیے، دونوں پاؤں جوڑ کر بھی کھڑے نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی زیادہ فاصلہ ہونا چاہیےبلکہ اعتدال کے ساتھ اپنی جسامت کے مطابق پاؤں رکھنے چاہئیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو وہ اپنی ایڑیوں اور کندھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتے تھے، لیکن اگر کوئی شخص اپنے پاؤں کو غیر معمولی طور پر پھیلاتا ہے تو اس سے کندھوں کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے، جو صف کی ترتیب کو خراب کرتا ہے۔ شرعی طور پر مطلوب یہ ہے کہ کندھوں اور ایڑیوں کو ملا کر صف کو درست کیا جائے۔
سيدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
اپنی صفوں کو درست رکھا کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے ساتھی کے قدم سے ملا دیتا تھا۔ (صحیح البخاری، الأذان: 725)
والله أعلم بالصواب.