سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا حاملہ بیوی کوطلاق دی جا سکتی ہے ؟
  • 6235
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-25
  • مشاہدات : 274

سوال

اگر بیوی چار ماہ کی حاملہ ہو تو اسے طلاق دی جا سکتی ہے ؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل  بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک عقل مند انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ذ را سی بات پر اتنا غصے میں آ جائے کہ منہ سےطلاق کا لفظ نکال کر خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کو ختم  کردے۔

اگر خاوند اور بیوی کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تو اسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔ جب تمام کوششوں کے باوجود رشتہ نبھانا ممکن نہ ہو تو اسلام نے خاوند کو طلاق کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرنے کا اختیار دیا ہے۔ 

علماء کے ہاں اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر بیوی حاملہ بھی ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلَا نَعْلَمُ خِلَافًا أَنَّ طَلَاقَ الْحَامِلِ إِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا طَلَاقُ سُنَّةٍ إِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً وَأَنَّ الْحَمْلَ كُلَّهُ مَوْضِعٌ للطلاق (الاستذکار، جلد 6، ص139)

ہمیں اس بارے میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ حمل ظاہر ہو جانے کے بعد حاملہ عورت کو طلاق دینا، طلاق دینے کا سنت طریقہ ہے اگر اس کو ایک طلاق دی جائے (اکٹھی تین طلاقیں نہ دی  جائیں) ، حمل کے دوران کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے