الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
پہلے اور آخری تشہد میں، سارے تشہد کے دوران، شہادت کی انگلی کو اٹھائے رکھنا سنت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 580)
نبیﷺجب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گٹھنوں پر رکھ لیتے اور انگوٹھے سے ملنے والی دائیں ہاتھ کی انگلی (شہادت کی انگلی) اٹھا کر اس سے دعا کرتے اور اس حالت میں آپکا بایاں ہاتھ آپکے بائیں گٹھنے پرہوتا‘ اسے(آپ)اس (گٹھنے ) پر پھیلا ئے ہوتے۔
1. رہی بات شہادت کی انگلی کو حرکت دینے کی، تو افضل یہ ہے کہ دعائیہ کلمات کے وقت انگلی کو اوپر کی طرف حرکت دی جائے۔
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ رسول اللہ کی تشہد میں بیٹھنے کی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَضَعَ كَفِّهِ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا (سنن نسائي، الافتتاح: 889)
اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور اپنی دائیں کہنی کا کنارہ اپنی دائیں ران پر رکھا۔ پھر ہاتھ کی دو انگلیاں بند کیں اور(درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) حلقہ بنایا۔ پھر اپنی (تشہد کی) انگلی کو اٹھایا، چنانچہ میں نے دیکھا، آپ اسے حرکت دیتے تھے اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
یعنی تشہد میں درج ذیل کلمات پڑھتے ہوئے انگلی کو حرکت دی جائے گی۔
1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ بھی دعائیہ کلمہ ہے، انسان اپنے ساتھ نماز پڑھنے والے نمازی حضرات اور فرشتوں کے لیے ان الفاظ كے ساتھ دعا کرتا ہے، اس لیے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے وقت بھی انگلی کو حرکت دی جائے گی۔
والله أعلم بالصواب