سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا لڑکی کسی لڑکے کو اپنے ساتھ نکاح کرنے کا اختیار دے سکتی ہے؟
  • 6198
  • تاریخ اشاعت : 2026-01-24
  • مشاہدات : 486

سوال

سر ایک مسئلے کی وضاحت چاہیے اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کواپناوکیل بناکر اختیار دےدے کہ میرا نکاح اپنے ساتھ کردو اور وہ لڑکا صرف اس لڑکی کانام لے کر اس کے والد کانام نہ لے صرف اس لڑکی کانام لے کر دو گواہوں کی موجودگی میں یہ کہہ دے کہ فلاں لڑکی نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دےدیا اور میں اس کا نکاح اپنے ساتھ کرتاہوں اور پھر خود قبلت کے لفظ نہ بولے اوروہ گواہ اس لڑکی کاعلاقہ جانتے ہیں یہ پتہ ہےکہ اس لڑکے کی دوستی اس علاقے کی لڑکی سے ہےاور پہلےاس لڑکے نے ان گواہوں کو اس لڑکی کاعلاقہ، ایجوکیشن، قوم بتادیا تویہ نکاح منعقد ہوگا یانہیں ؟ آخر میں کہہ دیا کہ یہ لڑکی میری بیوی بن گئی ہیں تم گواہ ہو اگر کوئی لڑکی کسی لڑکے کواپنا وکیل بنا کر اختیار دےدے کہ میرا نکاح اپنے ساتھ کردو اور وہ لڑکا صرف اس لڑکی کا نام لے کر والد کا نام لیے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں یہ کہہ دے کہ فلاں لڑکی نے مجھے اپنے نکاح کا اختیار دے دیا اور میں اس کا نکاح اپنے ساتھ کرتا ہوں اور پھر خود قبول کے الفاظ نہ بولے۔ وہ گواہ اس لڑکی کاعلاقہ جانتے ہیں، انہیں بہ بھی پتہ ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اس علاقے کی لڑکی سے ہے اور پہلےاس لڑکے نے ان گواہوں کو اس لڑکی کاعلاقہ، ایجوکیشن، قوم بتادیا تو کیا اس طرح نکاح منعقد ہوگا یا نہیں ؟ لڑے نے آخر میں یہ کہا کہ یہ لڑکی میری بیوی بن گئی ہے تم گواہ ہو۔ اب وہ لڑکی کہتی ہے کہ میں نے اختیار تو تین مرتبہ دے دیا، لیکن میں حلفاً بیان دیتی ہوں کہ مجھے علم نہیں تھا کہ اس طرح نکاح ہو جائے گا۔ اگر مجھے علم ہوتا تو میں یہ اختیار نہ دیتی اور اس نکاح کے بعد اس لڑکی نے اپنا اختیار واپس بھی لے لیا، لیکن اس سے پہلے گواہوں کی موجودگی میں یہ مجلس قائم ہوگئی اور مذکورہ بالاجملہ بولے گئے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ میں مردوزن کو بدکاری و فحاشی، عریانی و بے حیائی سے محفوظ رکھنے کے لئے نکاح کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔ شیاطین اور اس کے چیلے جو مسلمان کے ازلی دشمن ہیں اسے راہ راست سے ہٹانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

 اسلام نے کسی مرد یا عورت  کو اجازت نہیں دی کہ وہ غیر محرم مرد یا عورت سے گپ  شپ لگائے۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو ضرورت کی حد تک بات کی جا سکتی ہے۔ جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ﱠ. (الأحزاب: 53).

اور جب تم ان سےکوئی سامان مانگو توان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں او ران کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔

1. اس لیے  لڑکے کا اس لڑکی سے میل جول رکھنا اور گپ گپ لگانا ہی حرام اور کبیرہ گنا ہ ہے اس  پر لازم ہے کہ  اس گناہ سے رب کے حضور توبہ کرے، اپنے کیے پر نادم ہواور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ ارداہ کرے۔

 

شرعی حکم کے مطابق نکاح میں ولی کا ہونا شرط ہے۔

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ. (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گی اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

 

اسی طرح نکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی بھی شرط ہے۔ جیسا کہ  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَشَاهِدَيْ عَدْل. (صحیح الجامع: 7557).

ولی اور دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح میں ولی کی رضا مندی ضروری ہے۔

 

1. سوال میں مذکور صورت حال میں لڑکی نے لڑکے کو نکاح میں اپنا وکیل بنایا ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی شرعی طور پر لڑکی کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے۔

2. ایجاب و قبول نکاح کےارکان میں سے ہے اور شریعت کی رو سے  ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھر اس کے قائم مقام کی طرف سے ادا کیے جاتے ہیں۔ قبولیت کے الفاظ خاوند یا اس کا قائم مقام  ادا کرے گا۔

3. لڑکےنے جو اپنے طورپر نکاح کیا ہے اس میں ایجاب خود ہی کر لیا ہے، لڑکی کے ولی (باپ) کو اس کا علم تک نہیں ہے اس لیے یہ نکاح باطل ہے۔ لڑکی اس لڑکے  کے لیے اجنبی ہے، دونوں کا آپس میں کسی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے۔

4. اگر لڑکا اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو شرعی طریقہ نکاح کے مطابق ولی کی اجازت، عورت کی رضا مندی، دوگواہ اور حق مہر مقرر کر کے نکاح  کر سکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

 

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے