سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نکاح میں ایجاب وقبول کا طریقہ
  • 6189
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-25
  • مشاہدات : 447

سوال

میں اﷲ پاک کو حاضر و ناظر جان کر اور رسولﷺ اور تمام فرشتوں کو گواہ بنا کر فلاں بنت فلاں سے نکاح ( اپنی /اپنے نکاح میں قبول) کرتا/کرتی ہوں یہی الفاظ)(لڑکا اور لڑکی ) دونوں کی طرف سے تین مرتبہ کہنے سے کیا نکاح ہو جائے گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے نکاح میں کچھ ارکان اور شروط متعین کی ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے ۔

نکاح کے تین ارکان ہیں :

1. خاوند اوربیوی کا ہونا کیوں کہ ان کے بغیر نکاح ممکن نہیں ہے، یہ بھی تاکید کرنا ضروری ہے کہ ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہو وہ ایک دوسرے کےمحرم نہ ہوں۔

2. حصول ایجاب: ایجاب کے الفاظ عورت کے ولی یا پھراس کے قائم مقام کی طرف سے اس طرح ادا ہوں کہ وہ خاوند کو کہے کہ میں تیری شادی فلاں لڑکی سے کرتا ہوں یا اس سے ملتے جلتے کوئی الفاظ کہے۔

3. حصول قبول: قبولیت کے الفاظ خاوند یا اس کا قائم مقام  ادا کرے گا، مثلا: وہ یہ کہے کہ میں نے قبول کیا یا اسی طرح کے کوئی الفاظ۔

نکاح کی شروط درج ذیل ہیں:

1. خاوند اور بیوی کا تعین کرنا، یہ تعین نام، اشارے یا اس کی کوئی  صفت بیان کرکے کیا جا سکتا ہے۔

2. خاوند اوربیوی کی رضا مندی:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ. (صحيح البخاري، النكاح: 5136، صحيح مسلم، النكاح: 1419).

شوہر دیدہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کےبغیر نہیں کیا جا سکتا ، کنواری عورت سے بھی نکاح کی اجازت لی جائے گی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  کہنے لگے: اے اللہ کے رسول ! ( کنواری ) کی اجازت کس طرح ہوگی، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

3. عورت کے لیے ولی کا ہونا بھی شرط ہے۔

سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

لا نِكَاحَ إلا بِوَليٍّ)). (سنن أبي داود، النكاح:2085، سنن ترمذي، النكاح: 1101، سنن ابن ماجه، النكاح: 1881) (صحیح).

ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

دوسری حدیث میں سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أيُّما امرأةٍ نكَحَتْ بغيرِ إذن مَوَاليها فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ. (سنن أبي داود، النكاح: 2083، سنن ترمذي، النكاح: 1102) (صحيح).

جس عورت نے بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔

4. اسی طرح نکاح کے وقت دو گواہوں کی موجودگی بھی شرط ہے۔ جیسا کہ  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَشَاهِدَيْ عَدْل. (صحیح الجامع: 7557).

ولی اور دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔

نکاح کے وقت مذکورہ بالا تمام ارکان اور شروط یعنی ایجاب وقبول،خاوند اور بیوی کی رضامندی، عورت کے ولی کا ہونا، دوگواہوں کا ہونا ضروری ہے۔

ایجاب وقبول کا مذکورہ  بالا طریقہ اپنانے سے نکاح ہو جائے گا، سوال میں مذکور طریقہ تکلف ہے، جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں نہیں ملتا، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے